Archive

Archive for the ‘Information’ Category

Fitna-e-Dajjal Say Hifazat Ka Tareeqa

October 5, 2009 Leave a comment

Fitna-e-Dajjal Say Hifazat Ka Tareeqa

Categories: Information

عیسائی بادشاہ کے چار حیرت انگیز سوالات

August 3, 2009 Leave a comment

3369_01

3369_02

3369_03

Categories: Information

رجب کے کونڈوں کی بدعت

July 22, 2009 Leave a comment

دین میں بدعت ایک ایسا کام ہے ۔ جو دین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے اور وہ دین جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اس میں اضافہ کر دیتا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین اسلام مکمل ہو گیا اور اسمیں کسی قسم کی کمی نہیں رہ گئی حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین کی خوش خبری سنائی چنانچہ ارشاد فرمایا ۔ ….الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا…. ( المائدہ:3 ) ” آج میں نے دین اسلام کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت قرآن پاک کی بھی تکمیل کر دی اور اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند فرمایا ۔ “ جب شریعت کے محل کی تکمیل ہو گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بھی باقی نہیں رہی تو پھر جو شخص اس میں اپنی طرف سے اینٹ لگانے کی کوشش کرے گا ۔ تو وہ بہت بڑا مجرم ہو گا ۔ گویا کہ اس کے نزدیک وہ دین جو اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھلایا اور حکم دیا کہ اپنی امت کو اس کی تبلیغ کرےں نامکمل ہے اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اس طریقے سے وہ ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اس صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہے کہ آپ نے شریعت کو نامکمل چھوڑ دیا یا پھر شریعت کے بعض احکام جن کا آپ کو علم تھا قصداً لوگوں تک نہیں پہنچائے ( نعوذ باللہ من ذالک ) حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مکمل شریعت نازل کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل شریعت لوگوں تک پہنچا دی ۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ الاھل بلغت ۔ لوگو ! کیا میں نے تم کو اللہ کے احکام پہنچا دئیے سب نے کہا ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” شرا الامور محدثاتھا “ سب سے برا کام دین میں نئے امور جاری کرنا ہے ایک موقعہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا ، ایاکم ومحدثات الامور دین میں نئے کام ایجاد کرنے سے بچو…. تو گویا کہ بدعت بہت برا کام ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے اور بدعتی کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے ملک میں جس قدر بدعات اور رسومات کو فروغ حاصل ہے ۔ اتنا شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر سال صرف دو تہوار عیدالفطر اور عیدالاضحی منائے ہیں لیکن آج شکم کے پجاریوں نے خدا جانے کتنے تہوار بنا رکھے ہیں بڑے پیر کی گیارہویں تو ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو کھیر پکا کر ضرور کرتے ہیں اس کے علاوہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ اسلام میں نئی عید ایجاد کر کے اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی مول لیتے ہیں عوام کالا نعام کو کیا علم ہوتا ہے وہ تو علما سو اور پیٹ پرست مولویوں کے کہنے پر سب کچھ کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے ملک میں ایک بدعت حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے کونڈوں کی بھی جاری ہے جو 22 رجب کو کی جاتی ہے گیارہویں کی طرح یہ بھی علماءسو کے لیے شکم پروری کا بہانہ ہے ۔ اس موقعہ پر خوب حلوہ پوڑی کھاتے ہیں ۔ کونڈے بھرنے والوں کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام بدعت اور ناجائز ہے تو وہ ایک بے بنیاد اور من گھڑت داستان جو لوگوں سے سنی سنائی ہوتی ہے بیان کرتے ہیں جس کا کوئی ثبوت ہے نہ سند ۔ یہ داستان منشی جمیل احمد کا منظوم کلام ہے اس میں ایک لکڑ ہارے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو مدینہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کرتا تھا اور کے بیوی بچے اکثر فاقے کرتے تھے وہ بارہ سال تک در در دھکے کھاتا رہا لیکن فقر و فاقہ اور تنگدستی کی زندگی ہی گزارتا رہا…. یہ لکڑ ہارا ایک دن وزیر کے محل کے پاس سے گزرا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے گزرے وہ وزیر کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں ؟ آج کونسی تاریخ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس 22 تاریخ ہے امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا اگر کسی حاجت مند کی حاجت پوری نہ ہوتی ہو یا کسی مشکل میں پھنسا ہو اور مشکل کشائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہئیے کہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے روز میرا دامن پکڑ سکتا ہے ۔ یہ ایک بالکل من گھڑت قصہ ہے ۔ جو شکم کے پجاریوں اور علماءسوءنے اپنے کھانے کا بہانہ بنا رکھا ہے اس کی کوئی سند اور ثبوت نہیں اور کسی مستند کتاب میں بھی اس کا ذکر نہیں اس کے جھوٹے اور غلط ہونے پر کئی دلائل ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں کبھی بادشاہ ہوا ہے نہ وزیر ۔ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش 22 رجب کو نہیں ہوئی بلکہ ایک روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں ہوئی دوسری روایت کے مطابق 17 ربیع الاول 83ھ کو ہوئی ۔ ان کی وفات 15 شوال 148ھ کو ہوئی ۔ ان کی زندگی کے تقریبا 52 سال بنو امیہ کے دور میں گزرے اور ان کا دارالخلافہ بغداد تھا لوگ مدینہ منورہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں بنا بریں یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور جھوٹا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 22 رجب حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش کا دن ہے نہ وفات کا بس یونہی لوگوں نے ان کی طرف منسوب کر دیا تاریخ حوالہ جات کے مطابق اس دن حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اہل تشیع نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دن خوشی سے منایا تھا بعد ازاں انہوں نے حضرت جعفر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا کہ یہ ان کی پیدائش کا دن ہے پس ان کی اس رسم کو آہستہ آہستہ اہلسنت کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنا لیا ۔ بہرحال یہ قصہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کا سر ہے نہ پاؤں پیٹ پرست اور شکم پروری کرنے والے علماءنے اسے خوب رواج دیا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے دین کا اہم جزو تصور کیا اور رزق کی کشائش اور فقر و تنگدستی دور کرنے کا بہترین نسخہ تصور کیا ۔ چنانچہ اکثر تنگدست لوگ اپنی تنگدستی اور فقر و فاقہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے رجب کے کونڈے کرتے ہیں ۔ اگر بالفرض ہم یہ بات درست مان لیں کہ اسی دن امام جعفر رحمہ اللہ پیدا ہوئے تو پھر بھی یہ کام ناجائز اور شرک کے زمرہ میں آتا ہے کیونکہ مشکل کشاءاور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ ۔ بنابریں ان کا وسیلہ بھی جائز نہیں مکہ کے مشرک بتوں کو خدا نہیں مانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارش کنندہ ہیں ۔ ہم ان کو خدا تصور نہیں کرتے ہم تو صرف ان کے وسیلہ سے اللہ سے مانگتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ۔ ويعبدون من دون اللہ ما لا يضرہم ولا ينفعہم ويقولون ھولآء شفعآونا عند اللہ ( یونس : 18 ) ” یہ ( مشرکین عرب ) اللہ کے سوا ایسے لوگوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو ان کے نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں وہ اس بات کا خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہم ان کو خدا نہیں سمجھتے تمام امور کا کرنے والا اللہ ہی ہے لیکن یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ “ قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تمام کائنات کا خالق اور پروردگار ہے وہ سمجھتے تھے کہ اللہ وہ واحد ہستی ہے ۔ جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر اور تصرف ہے اس کے باوجود قرآن پاک ان کو مشرف کہہ رہا ہے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کو اپنا خالق و رازق اور مالک تسلیم کرتے ہیں تو ان کو مشرک کیوں کہا گیا ؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے شرک کی حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب نے اللہ کے ماسوا جن ہستیوں کو معبود اور دیوتا بنایا ہوا تھا وہ ان کو اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہی تسلیم کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ہم جو کچھ مانگتے ہیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں لیکن ان کے وسیلہ سے مانگتے ہیں ہم ان کی پوجا پاٹ نہیں کرتے اور نہ ہم ان کو خدائی اختیارات کے حامل تصور کرتے ہیں بلکہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ الغرض رجب کے کونڈوں کا کوئی ثواب نہیں بلکہ یہ بدعت اور شرک کے زمرہ میں آتے ہیں کونڈوں کا قصہ جو امام جعفر کی طرف منسوب ہے بالکل غلط ہے اس میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہے کہ آپ نے لوگوں کو اس نیکی کے کام سے آگاہ نہیں کیا ۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ خالق توحید کے داعی تھے ۔ وہ ایسی بات جس میں شرک کی بو آئے یا بدعات کے زمرہ میں شمار ہو بھلا کب لوگوں کو کہہ سکتے ہیں ۔ میرے بھائیو ! اس قبیح رسم اور بدعت سے باز آجاؤ کونڈوں کا حلوہ پوڑی مت کھاؤ اپنے لیے حلال کی روزی تلاش کرو اور صرف اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دو غیر اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دے کر اپنی نیکی مت ضائع کرو ۔ کتاب و سنت کے مطابق نذر و نیاز دو تا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہو جائیں ۔ جب ان کی رضا حاصل ہو گئی تو پھر کسی ولی بزرگ اور امام کے وسیلہ اور رضا کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق دے ۔

Categories: Information

بجلی چوری کے خلاف فتوٰی

July 15, 2009 Leave a comment

image002

کراچی میں بجلی چوری کی شکایت عام ہے.

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن نے مختلف دینی اداروں سے تعلق رکھنے والے بارہ علماء سے بجلی چوری کے خلاف فتوٰی حاصل کیا ہے۔

اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ا س گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان صادق جعفری کا کہنا ہے کہ بڑی پیمانے پر بجلی کی چوری ہو رہی ہے جس کی روک تھام کے لئے ان کے ادارے نے علما کو فتویٰ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کے ای ایس سی کو بجلی چوری کی وجہ سے سولہ ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس سال ہر مہینے تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

image001

کے ای ایس سی کے اعلامیے کے مطابق فتویٰ جاری والے علمائے میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد رفیع عثمانی، نائب مفتی عبدالروف سکھروی ، نائب مفتی محمودالحسن اورمولانامحمد عبدالمنان، جامعہ بنوریہ العالمیہ کے رئیس عبداللہ شوکت، نائب رئیس سیف اللہ، مولانامحمد سعد جاوید، جامعہ حمادیہ کے مولانامحمد قمرالحسن، مولانا نورالدین پانیزئی اور دارالافتاءاہلسنت کے مولانامحمد رضوان رضاالعطاری المدنی، مولانافیصل رضاالقادری العطاری اور مولانامحمد سجاد عطاری المدنی شامل ہیں۔

بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ا س گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔

ان علماء نے بجلی چوری کے مرتکب شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگیں اور آئندہ متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر بجلی استعمال نہ کرنے کا پختہ عہد کریں۔ ورنہ جب تک ناجائز بجلی استعمال ہوتی رہے گی، تو کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتارکم کر کے بجلی استعمال کرنے والےگناہ کبیرہ میں مبتلا رہیں گے۔

علماء کا کہنا ہے کہ’محفل میلاد یا دوسری محافل پر چراغاں کے لیے کنڈے کی بجلی استعمال کرنا بھی چوری میں شمار ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے لہٰذاایسے میلاد سے ثواب کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ مال حلال ہی قبول فرماتا ہے‘۔

علما ئے کرام نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ بجلی چوری کرنے کے لیے میٹربند کرنا، کنڈالگانا، میٹر کی رفتارکم کرنا یا اس کے علاوہ کوئی اور ایسی صورت اختیارکرنا جو حکومت یامتعلقہ ادارے کی طرف سے قانونا ممنوع ہو، شرعا ناجائزاور گناہ ہے۔ اور اس میں دوطرح کاگناہ لازم آتاہے۔ ایک تو یہ ایک ایسے ادارے کی چوری ہے جس سے بہت سے لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں اور چوری اگر ایک آدمی کی ہوتب بھی سخت گناہ ہے اور اگر بہت سے لوگوں کی ہو تو گناہ مزید بڑھ جاتاہے۔

کراچی میں بجلی کا شدید بحران ہے اور شہر میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے

دوسرے یہ کہ جائز امورمیں حکومتی قوانین کی پاسداری واجب ہے ، چونکہ بجلی کی چوری حکومت کی طرف سے قانوناً ممنوع ہے جو کہ عوامی مصالح کے پیش نظرجائز پابندی ہے اس لیے بجلی چوری کرناجائز حکومت کی مخالفت کرنا ہے جوکہ ناجائز اور گناہ ہے۔

علمائے کے مطابق کراچی میں بجلی ایک نجی ادارے کی ملکیت ہے اس لیے کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتار کم کر کے بجلی استعمال کرنا حرام اورگناہ کبیرہ ہے اور ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ جتنی بجلی متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہے اسی ادارے کو اس کی ادائیگی کریں اور جو گناہ ہوا ہے اس کی انتہائی پشیمانی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔

یاد رہے کہ پچھلے دنوں کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن نے بل کی عدم ادائیگی پر شہر کی مشہور دینی درس گاہ دارلعلوم احتشامیہ کی بجلی منقطع کر دی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ درس گاہ کے قیام کے وقت بجلی اور پانی کی مفت فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی.

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Categories: Information

Details about E631 used in Lays Chips..

July 15, 2009 Leave a comment

Disodium inosinate

From Wikipedia, the free encyclopedia

(Redirected from E631)

D

Disodium inosinate (E631), chemical formula C10H11N2Na2O8P, is the disodium salt of inosinic acid. It is a food additive often found in instant noodles, potato chips, and a variety of other snacks. It is used as a flavor enhancer, in synergy with monosodium glutamate (also known as MSG; the sodium salt of glutamic acid) to provide the umami taste. It is mainly found in animals like pigs and fish.

In the US, comsumption of added 5′-ribonucleotides averages 4 mg per day, compared to 2 g per day of naturally occurring purines. A review of literature by an FDA committee found no evidence of carcinogenicity, teratogenicity, or adverse effects on reproduction.

As it is a fairly expensive additive, it usually is not used independently of glutamic acid; if disodium inosinate is present in a list of ingredients but MSG does not appear to be, it is possible that glutamic acid is provided as part of another ingredient or is naturally occurring in another ingredient like tomatoes, Parmesan cheese or yeast extract. It is often added to foods in conjunction with disodium guanylate; the combination is known as disodium 5′-ribonucleotides.

Disodium guanylate is produced from dried fish or dried seaweed and is often added to instant noodles, potato chips and other snacks, savoury rice, tinned vegetables, cured meats, and packaged sou

Nutritional Information

Disodium guanylate is not safe for babies under twelve weeks, and should generally be avoided by asthmatics and people with gout, as guanylates are metabolized to purines. Since it is often produced from fish, vegans and vegetarians may wish to avoid it unless the product is specifically labelled Vegan/Vegetarian. Such labels require the use of non-animal derived sources, such as seaweed or yeast.

References

^ DISODIUM 5′-GUANYLATE AND DISODIUM 5′-INOSINATE First draft prepared by Dr K. Ekelman and Dr K. C. Raffaele, Additives Evaluation Branch Division of Health Effects Evaluation Center for Food Safety and Applied Nutrition Food and Drug Administration, Washington, DC, USA

for more detail please check the link
http://en.wikipedia.org/wiki/E631

Categories: Information