Ramazan’s Gifts to this Ummah























__,_._,___
روزہ اور بندگی کے معانی
روزہ صبر کی ایک خاص کیفیت کانام ہے۔
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس پر صبر کا ایک خاص اطلاق ہوتا ہے۔ رکے رہنا، برداشت کرنا، ڈٹ جانا، منتظر ہونا، کمال انداز میں سہہ جانا ۔۔۔۔ جس کے پیچھے ایک عظیم ہستی کی چاہت ہو اور جس کی پشت پر کوئی اعلیٰ مقصد کارفرما ہو، صبر کہلاتا ہے۔ روزہ صبر ہی کی ایک صورت ہے یہاں تک کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ رمضان کا ذکر ہی شھر الصبر (صبر کا مہینہ) کے نام سے کرتے ہیں۔ چنانچہ روزہ اور صبر قریب قریب ہم معنی ہوجاتے ہیں۔
اور جہاں تک صبر کی بات ہے تو وہ عبادت کی ایک بہترین صورت ہے۔ کسی نے ’بندگی‘ کی تعریف یہ کی ہے:
”نفس انسانی کا معبود برحق کی طلب میں زندگی زندگی یوں چاہت اور رغبت اور دلجمعی سے بڑھتے جانا کہ ایک قدم صبر ہو تو ایک قدم شکر“
روزہ صبر بھی ہے اور شکر بھی۔ پس آدمی کو چاہیے کہ عبادت کے ہر عمل میں بندگی کی اسی کیفیت کو ٹٹولتا رہے۔
صبر کی دو صورتیں ہیں۔ اضطراری اور اختیاری۔ روزہ کا شمار دوسری صنف میں ہوتا ہے۔
اضطراری صبر جانور بھی کرتے ہیں۔ کافر بھی کر لیتے ہیں۔ یعنی جہاں آدمی کا بس ہی نہ چلے وہاں ’صبر‘۔ یہ عبادت نہیں مجبوری ہے۔ صبر جو عبادت ہے وہ ایک اختیاری فعل ہے۔ مومن کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو اضطراری صبر کو بھی اختیاری بنا لیتی ہے۔ جہاں آدمی کا بس نہ چلے وہاں بھی دِل سے راضی ہونا اور مالک کی خوشی کو اپنی خوشی جاننا آدمی کا بہرحال اپنا اختیار ہے۔ پس صبر جہاں ایک جانور یا ایک کافر کیلئے مجبوری کی ایک صورت ہو مومن کیلئے وہاں بھی وہ ایک مجبوری نہیں رہتا بلکہ اختیاری فعل بن جاتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے اس فعل سے مالک کو خوش کرتا ہے۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی کواپنی حدود اور خدا کے اختیارات معلوم ہوں۔ قدرتی اضطراری امور میں کچھ کر سکنا تو کافر کا بس ہے اور نہ مومن کا۔ دونوں اس معنی میں صبر کرتے ہیں۔ مگر کافر کا صبر کوئی بہادری نہیں۔ البتہ مومن اپنے مالک سے اس پر خوب خوب داد پاتا ہے۔ توحید کا سراغ پا لینے سے انسان میں دراصل یہی فرق آجاتا ہے۔
رہ گئی صبر کی اختیاری صورت، یعنی جہاں انسان کا بس چلتا ہو اور کچھ کرنے یانہ کرنے پر اس کا پورا اِختیار ہو وہاں انسان کا آپ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدا کا محدود اورپابند کر لینا اور اس پابندی کو خوشی سے قبول کرنا اور پورے اعتماد سے سہہ جانا اور یہ کرکے اس ذات کبریائی کی نگاہ میں جچ جانا۔ تو یہ صبر کی ایک اعلیٰ اور برگزیدہ صورت ہے۔
صبر کا یہ مفہوم اگر واضح ہو جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ صبر دراصل عبادت اور بندگی کا ہی دوسرا نام ہے۔ پس صبر عبادت ہے اور عبادت صبر۔
فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ (مریم: 65)
”پس تم اس کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی میں صبر وثابت قدمی اختیار کر“۔
یہ ایک ادا ہے جس کا بدلہ حساب رکھے بغیر دیا جاتا ہے:
إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر: 10)
”یہ صبر کرنے والے ہی ہیں جو اپنا اجر بلا حساب پائیں گے“۔
کل عمل ابن آدم یضاعف: الحسنۃ عشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف، قال اللّٰہ عزوجل: اِلا الصوم، فانہ لی و اَنا اَجزی بہ، یدع شھوتہ وطعامہ من اَجلی ۔۔۔۔
”آدم کا بیٹا اپنے ہر عمل کا کئی کئی گنا پاتا ہے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک جا پہنچتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے: سوائے البتہ روزے کے۔ یہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی بس میرے ہی دینے کا ہے۔ بندہ اپنی لذت و مزہ اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑ لیتا ہے“۔
یوں بندگی صبر اور صلوة سے عبارت ہے۔ سورة البقرہ جس میں پانچوں ارکان اسلام کا خوب خوب ذکر ہے اور اس انداز کی جامعیت رکھنے میں قرآن کی یہ ایک منفرد ترین سورت ہے، صبر اور صلوة کا دوبار اکٹھا ذکر کرتی ہے:
وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 46، 45)
”اور صبر اور نماز کے۔ ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ضرور ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے“۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 153)
”اے ایمان والو! صبر (ثابت قدمی) اور نمازکے ذریعے مدد چاہو۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔
چنانچہ صبر اختیاری کی ایک بہترین صورت روزہ ہے۔ بلکہ روزہ صبر اختیاری کی ایک بہترین مشق بھی ہے۔ سب کچھ انسان کے پاس ہے۔ نفس میں اس کی طلب بھی خوب ہے۔ ضرورت بھی ہے۔ مگر انسان آپ ہی اپنے اختیار سے اور خدا کی محبت میں اس سے یوں پرہیز کئے ہوئے ہے گویا یہ کوئی فرشتہ ہے۔ کیونکہ یہ بندگی کے ایک خاص مفہوم کا مجسم عکس بننا چاہتا ہے اور بھوک پیاس کی اسی کیفیت میں خوشی خوشی دن پار کر دیتا ہے۔ مگر اس کا یہ فعل رزق سے بے رغبتی نہیں بلکہ رازق سے اپنی رغبت بتانے کا ایک طریقہ ہے اور ایک مشروع طریقہ ہے۔ رزق سے بے رغبتی ہوتی تو یہ صبح پو پھٹنے سے بھی پہلے اٹھ بیٹھنے کا روادار نہ ہوتا اور رات کے اس آخری پہر میں خدا کا رزق کھانا اور اس پر اس کا شکر کرنا یہ اپنے حق میں باعثِ برکت نہ جانتا اور نہ سورج چھپتے ہی ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر خدا کا نام لے کر خدا کا رزق کھانے اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اس کو حکم ہوتا۔
یہ رزق سے بے اعتنائی نہیں ہے۔ یہ کوئی منفی رویہ نہیں۔ یہ دراصل رازق کی طمع اور چاہت ہے۔ یہ کھانے پینے سے بے نیازی نہیں بلکہ کھلانے والے کو کھانے پر ترجیح دینے کا ایک اظہار ہے۔ کھانا پینا اگر ایک زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے تو رازق کو رزق پر مقدم جاننا بھی پھر زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہونا چاہیے اور عمل سے ہی ثابت کر دی جانے والی بات۔ رازق کو رزق پر ترجیح دینے کی ایک عملی صورت اگر زکوٰة اور صدقہ ایسی مالی قربانی ہے تو اس کی ایک دوسری صورت روزہ رکھ کر۔۔۔۔ طویل ساعتیں آپ اپنی مرضی سے بھوکا اور پیاسا رہ کر مالک کیلئے اپنے لطف اور لذت کی قربانی ہے۔
ان سب جہتوں سے انسان اپنے آپ کو رضاکارانہ خدا کا پابند کرتا ہے اور اپنی بندگی کا یہ پیغام دے کر اس سے اس کے فضل کا خواستگار ہوتا ہے حالانکہ یہ پابندی اختیار نہ کرنے کی اس کو زندگی زندگی پوری آزادی ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ صبر اختیاری کی ایک کامل ترین عکاسی ہے اور صبر اختیاری کی ایک زبردست مشق۔
٭٭٭٭٭٭٭
شکر ایک دوسری بڑی عبادت ہے، روزہ جس کا ایک اظہار بنتا ہے۔ دیکھا جائے تو شکر بندوں کے ہاں پایا جانے والا ایک نادر ترین عمل ہے۔ انسان صبرکر لینے پر تیار ہو جاتا ہے مگر شکر کی جانب بہت کم متوجہ ہوتا ہے۔ کہنے کو صبر مشکل ہے اور شکر آسان مگر عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے۔
شکر بنیادی طور پر نعمت کی قدردانی ہے اور منعم کی احسان مندی۔ نعمت سے انسان کی لطف اندوزی عموماً اس کو نعمت کی قدردانی اور منعم کی احسان مندی کی جانب متوجہ نہیں ہونے دیتی۔ اس کی نوبت عموماً تب آتی ہے جب وہ نعمت ہی سرے سے جاتی رہے۔ مگر یہ صبر کا موقعہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ کے اور ان نعمتوں میں سے کسی ایک کے مابین جو آپ کو لا تعداد حاصل ہیں محض ایک وقتی فاصلہ آجائے تو آپ نعمتوں کی قدر بھی کر لیتے ہیں اورمنعم کے فضل کا اعتراف بھی خوب کرتے ہیں جبکہ اس نعمت سے بھی آپ محروم نہیں ہوئے ہوتے۔ ایک چیز آپ کے پاس بھی رہی اور آپ اسے کھو کر دوبارہ پا لینے کی کیفیت سے بھی گزر گئے۔
اس لحاظ سے روزہ صبر ہی نہیں روزہ شکر بھی ہے۔ آپ کی یہ بھوک اور پیاس جو آپ نے خود اپنی مرضی سے مالک کی خاطر اختیار کی اس کے شکر واحسان مندی کی بھی یاد دہانی بن جاتی ہے۔کسی نعمت کے یاد آنے کیلئے اس سے کچھ فاصلہ ہو جانا بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔ روزہ اس بات کا ایک قدرتی انتظام ہے بلکہ اس طرز احساس کی ایک زبردست مشق بھی۔ آپ کا روزہ رکھنا اگر ایک مشینی عمل نہیں تو کچھ گھنٹوںکی بھوک اور پیاس آپ کے حق میں ایک بہت ہی بامعنی چیز ہے۔ یہ آپ کو بار بار کچھ پیغام دیتی ہے اور آپ کو بندگی کے کچھ ایسے نفیس معانی بیان کرکے دیتی ہے جس کا بیان کرنا کسی اور چیزکے بس میں نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
تیسری چیز فقر ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر: 15)
”لوگو!تم ہی خدا کے محتاج ہو، خدا ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔
فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف خدا کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں خدا کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔
ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ خدا کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی خدا کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔
چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔
البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو اِس کی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحۂ حاضر کا اسیر جاہلِ محض ہے۔ ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل خدا کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ خدا کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف، خدا کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔
اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل خدا کے غنیِ مطلق اور لائقِ حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رُواں رُواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنیِ مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دستِ سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہ ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔
چنانچہ روزہ اس صفتِ بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے ___ اور بھوک بندے کی صفت ہے ___ جب تک کہ خدا اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! خدا کی تسبیح، خدا کی بندگی، خدا کی حمد اور خدا کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔ اس لئے کہ وہ آپ اپنی ذات میں قابل ستائش ہے اور لائق حمد اور یہ آپ اپنی ذات میں احسان مند اور اُس کا ثنا خوان! وہ دے تو اُس کے دینے پر اُس کی تعریف وہ کبھی کسی وقت نہ بھی دے تو اُس کی حکمت پر پیشگی اعتماد اور اُس کی دانائی پر اُس کی تعریف اور اُس کے فیصلے پر کامل اطمینان اور اِس سے بھی بہتر صلہ پانے کی اُس سے امید اور آس۔ وہ دے کر کھانے سے روک دے تب بھی اُسی کی تعریف اور اُس کا حکم بسروچشم! لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔
پس یہ ایک غیر مشروط بندگی ہے۔ ہر حال میں خدا کی تعریف اور خدا کی احسان مندی ہے اور خدا کی طلب میں سچا ہونے کی ایک عاجزانہ مگر ایک عملی تعبیر۔
روزہ اگر میکانکی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری عمل ہے اور ایمان اور احتساب کا پیدا کردہ ہے تو انسان کی بھوک اور پیاس ان سب احساسات کی ایک خاموش مگر خوبصورت زبان بن جاتی ہے۔ انسان سارا دن ان احساسات کو پالتا اور بڑھاتا ہے اور اسی کیفیت میں صبح سے شام کر لیتا ہے۔ یوں ایک مہینہ وہ یوں گزارتا ہے کہ صبح چڑھتے ہی ایمان کا یہ سبق بیک وقت شعور اور عمل کی زبان میں یاد کرنے لگتا ہے اور شام ڈھلنے تک اسی سبق کو یاد کئے چلا جاتا ہے۔ یہ سبق ایک بار ذہن نشین ہوجائے تو بھوک اور پیاس میں خدا نے کچھ ایسی خاصیت رکھی ہے کہ یہ خود ہی اس سبق کی یاددہانی بنتی ہے۔ یہ ایک قدرتی انتظام ہے کہ دن کا زیادہ سے زیادہ حصہ انسان اس سبق کے یاد کرنے میں گزارے۔ جیسے جیسے بھوک پیاس میں شدت آتی ہے ویسے ویسے ہی یہ سبق یاد ہونے لگتا ہے اور اسی نسبت سے ایمان کی یہ غذا اس کی روح میں اترتی ہے۔ جس شخص کی بھوک اور پیاس کو ایسی خوبصورت زبان مل جائے اور وہ اس کیلئے اتنے سارے پیغام نشر کرے وہ مالک کی نگاہ میں بھلا کیوں نہ جچے گا۔ اب حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے منہ کی ناخوشگوار بو خدا کے ہاں مشک کی خوشبو سے بڑھ جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
اب ہمارے پاس تین چیزیں ہو گئیں جو اس عبادت -روزہ – کی تہہ میں کام کرتی ہیں: صبر، شکر اور فقر۔ چوتھا عنصر اس میں ایک اور شامل ہونا ہے اور وہ ہے ذکر۔
آدمی ایمان کا مفہوم نہ جان پایا ہو تو ’ذکر‘ اس کیلئے بڑی حد تک ایک ناقابل فہم چیزہے اور یا پھر ایک بناوٹی عمل۔ ’ضربوں‘ کی نوبت عموماً تبھی آتی ہے۔ خدا کا درست تعارف ہو جانا۔ خدائی کی حقیقت سے آگاہ ہو جانا۔ بندگی کا مطلب جان لینا۔ خدا سے ایک عہدِ بندگی استوار کرلینا۔ دُنیا وآخرت کی حدود جان لینا اور اپنے آپ کو خدا کی عبادت میں دے کر اس کی تعظیم وتسبیح اور اس کی کبریائی کرنے لگنا۔ اس کو اس کی نشانیوں سے پا لینے کا سلیقہ جاننا۔ اس کی صفات کا علم پانا۔ اس کی خدمت اور اطاعت پر ہمہ دم تیار رہنا۔ عبادت اور اطاعت پر ایک اس کا حق جاننا اور طاغوت سے کھلا کفر کرنا۔ الوہیت اور کبریائی میں اس کی احدیت کے بار بار ذکر سے ایک خوشی اور ایک اطمینان محسوس کرنا اور نفس میں اس پر اعتماد پانا۔ غرض رسولوں کی دعوت کو اپنا ایک بے ساختہ مقدمہ بنا لینا اور قرآن کے بنیادی مضامین کو اپنا باقاعدہ مدعا بنا لینا۔ یہ ہے ایمان اور یہ ہے اسلام کی حقیقت۔ سب سے پہلے آدمی کو اسی پر محنت کرنا ہے اور اپنے نفس کی گہرائی میں اس کو قبول کرنا ہے ”وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ “ پھر جب قرآن سے اور رسول اللہ ﷺ کے مقدمۂ دعوت سے ایک بار یہ سبق پڑھ لیا جائے تو پھر باقی زندگی اس سبق کا اعادہ کیا جائے گا۔ قول سے، عمل سے، شعور سے، احساس سے اور ہر انداز سے۔ جس کثرت سے ہو سکے اس کا اعادہ کیاجائے گا۔ اس ’اعادہ‘ کو ہی ذکر کہا جاتا ہے۔
جس نے اصل سبق ہی نہیں پڑھااور اس کا مفہوم ہی نہیں سمجھاوہ سبق کا ’اعادہ‘ کیا کرے گا؟ ’ذکر‘ اس کیلئے ایک تکلف ہے۔ وہ ضرور اس کی کوئی غیر طبعی صورت اختیار کرے گااور بہتوں کے ساتھ عملاً اور واقعتا یہی ہوتا ہے۔ پس اس کا طریقہ یہی ہے کہ آدمی بہت پیچھے چلا جائے اور اپنی محنت کا آغاز ایمان کے مفہوم، اسلام کے مطلب، توحید کی حقیقت، خدا کی پہچان، صفات کے علم اور بندگی کا معنی جاننے سے کرے اور پھر ذکر کی صورت میں اپنے اس ایمان اور بندگی میں ساری زندگی اس رنگ کو گہرا کرتا رہے۔
اب یہ ذکر کیا ہے؟ یعنی بندگی کے اس سبق کا اعادہ اورتذکرہ کیونکر ہوگا؟ دُعا، مناجات، تسبیح، حمد، تعظیم، تکبیر، تہلیل، قیام، رکوع، سجود، تحیات، خدا کے خوبصورت نام لینا اور اس کی صفات کا تذکرہ کرنا۔ علم، فکر، توبہ، انابت، استغفار، خشوع، امید، آس، خشیت، خوف، استعاذہ، آہ، بکا، تسلیم، رضا ۔۔۔۔ یہ سب افعال اور یہ سب احساسات ذکر ہیں اور اس اصل حقیقت کی تذکیر جو ایمان کے مفہوم میں پہلے جان لی گئی اور لَآ اِلٰہَ اِلاَّاللہ کی صورت میں تسلیم کی گئی ۔۔۔۔
کوئی اگر ایمان کا پورا سبق دہرانا چاہے اور اپنے معبود کا ایک بہترین ذکر کرنا چاہے اور بندگی کی یہ حقیقت اپنے اوپر طاری کر رکھنے میں پوری طرح راغب ہو تو اس کو چاہیے قرآن پڑھے۔ یہ بہترین ذکر ہے۔ ایمان کا ہر مفہوم اس میں بار بار اور آپ سے آپ دہرایا جاتا ہے اور نئے سے نئے پیرائے میں بیان ہوتاہے۔
چونکہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس میں ’ذکر‘ کے بے شمار افعال ایک بے مثال انداز میں یکجا کر دیئے گئے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ذکر کے قریب قریب سب افعال ہی ملا جلا کر ایک عمل میں سمو دیئے گئے ہیں اور جس سے کہ یہ ایک ایسا سماں بنتا ہے کہ انسان کا پورا وجود ہی دُنیا ومافیہا سے رخ پھیر کر ایک خدائے وحدہ لاشریک کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ اس میں انسان کا انگ انگ خدا کا ذکر کرتاہے۔ انسان کا دل، انسان کی زبان، ہونٹ، ہاتھ، پیر، حتی کہ ہاتھوں پیروں کی انگلیاں، گھٹنے، ناک، پیشانی، سر، کمر، زانو، غرض سب اعضا خدا کا ذکر کرتے ہیں۔ حتی کہ نگاہیں جھک جاتی ہیں اور ادب اور خضوع میں آکر خدا کی تعظیم کرتی ہیں۔ انسان کے کان تک دُنیا کی ہر بات سننے سے انکاری ہو کر ایک خدا کا کلام اور ذکر سننے کے ہی روادار رہ جاتے ہیں۔ خدا کی بار بار تعظیم ہوتی ہے۔ خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔ حمد وثنا ہوتی ہے۔ خداکے کلام کی تلاوت ہوتی ہے۔ نماز خدا کے آگے قیام ہے۔ رکوع ہے۔ سجود ہے۔ انسان خداکے آگے بار بار ماتھادھرتا اور اس کی عظمت کو سلام کرتا ہے۔ تحیات اور کورنش ہے۔ تسبیح ہے۔ تہلیل ہے۔ دُعا ہے۔ مناجات ہے۔ خدا کے ناموں کا ورد ہے۔ استغفار، انابت، توبہ، خشوع، اذعان، تسلیم، امید، آس، درخواست، منت، سماجت، خوف، خشیت، استعاذہ حتی کہ بسا اوقات آہ، بکا اور گریہ ۔۔۔۔ غرض انسان ہر پہلو سے اور ہر شکل میں خدا کا ذکرکرتا اور اس کے آگے اپنی بندگی بیان کرتا ہے۔ اس لئے نماز ذکر کی بہترین حالت ہے۔ حتی کہ قرآن جو کہ بہترین ذکر ہے، کا بھی بہترین مقام نمازہے۔ پس نماز علی الاطلاق ذکر کی بہترین حالت ہے۔
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (طہ: 14)
”اور میری یاد کیلئے نماز قائم رکھ“۔
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنکبوت: 45)
”تلاوت کرو اس کتاب سے جو تم پر وحی کی گئی اور نماز کی اقامت کرو یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔ البتہ اللہ کا ذکر اس سے بھی بڑی چیز ہے“۔
پس روزہ جو کہ صبر کی بہترین حالتوں میں سے ایک حالت ہے اور نماز جو کہ ذکر کی ایک بہترین صورت ہے جب مجتمع ہوں ۔۔۔۔ اور رمضان ان دو عبادتوں کے اجتماع کی بہترین صورت ہے۔۔۔۔ تو یوں رمضان کے دن اور رمضان کی راتیں بہت بامعنی ہو جاتی ہیں اور واستعینوا بالصبر والصلوة کی ایک عملی تفسیر۔
ذکر کی بہترین حالت گو نماز ہے مگر روزہ بھی ذکر ہی کا ایک ذریعہ ہے بشرطیکہ روزہ سے آدمی وہ پیغام لینے کا شعور پائے جو کہ روزہ سے اس کا اصل مقصود ہے۔ اس بات کا اب یہاں کچھ بیان کیا جاتا ہے۔
بھوک اور پیاس انسان کے محسوسات میں قوی ترین ہیں۔ جنسی خواہش ایک مضبوط ترین جبلت ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انسان کے اندرونی محسوسات ہیں نہ کہ خارجی عوامل۔ خارج سے انسان کو کرائی جانے والی یاد دہانی ہرگز اس قدر موثر نہ ہوگی جس قدر کہ یاد دہانی کے اندرونی اسباب۔ انتڑیاں خالی ہوں تو وہ بہرحال انسان سے کھانا مانگتی ہیں اور جب تک کھانا مل نہ جائے تب تک بولتی ہیں۔ بھوک کی بہرحال ایک کھنیچ پڑتی ہے۔ پیاس بار بار اپنا آپ یاد دلاتی ہے۔ اس کے جواب میں آدمی جب اپنے آپ کو یہ بتاتا ہے کہ اُس کی اس بھوک پیاس کا سبب یہ نہیں کہ وہ کھانے پینے کیلئے کچھ پاس نہیں رکھتا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ خدا کی بندگی پر مامور ہے۔۔۔۔ اور یہ کہ خدا کا اس نے یہ مرتبہ اور مقام جان رکھا ہے کہ وہ جب چاہے اس کے اور اس کے مرغوباتِ نفس کے مابین حائل ہو جائے چاہے نفس کے وہ مرغوبات اس کی پوری دسترس میں ہوں اور یہ کہ خدا کے اس حق کو وہ اپنے لئے سعادت سمجھ کر اور خوشی خوشی قبول کرے ۔۔۔۔ اور یہ کہ اس کی نگاہ میں معبود کی خواہش اس کی اپنی خواہش پر کہیں بڑھ کر مقدم ہے اور اس کا یہ روزہ دراصل اسی بات کا ہی عملی ثبوت ہے۔۔۔۔ اور یہ کہ مالک کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس کے اپنے پاس ہے بلکہ اِس کا اور اُس کا میل ہی کیا! یوں روزہ اور روزہ کا ہر ہر لمحہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور پورا دن اس بات کی مشق کرتا اور اس سبق کا اعادہ کرتا ہے: وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى
سو یہ ایک ذکر ہے جو انسان لب ہلائے بغیر کرتا ہے اور پورا دن اس میں گزار دیتا ہے!
سبحان اللہ! بھوک اور پیاس کا ایسا استعمال کسی دین اور کسی اخلاق فلسفہ نے نہ کرایا ہوگا جیسا کہ شریعت اسلام نے کرایا: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ بھوک اور پیاس اور جنسی تسکین کی خواہش جس انداز سے ایک قدرتی عمل ہے اور اس کی بابت انسان کو کسی کے ’یاد‘ کروانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ انسان کو آپ اپنی طرف متوجہ کرتی اور آپ اپنی یاد دلاتی ہے، اس کے اسی قدرتی زور کو اسلام اپنے رخ پر لے آتا ہے اور اس کی تمام تر شدت کو بہت خوبصورتی سے اپنے حق میں ا ستعمال کرتا ہے۔ جیسے ہی انسان کی حیوانی خواہشات نے زور مارا ویسے ہی انسان کی روحانی قوت اور فکری مزاحمت حرکت میں آگئی! جونہی جسم کی کسی جبلت نے اپنا قدرتی عمل کیا ویسے ہی دل ودماغ نے ایک شعوری عمل کا آغاز کردیا۔ جسم انسان کو اپنی وقتی ضرورت بتائے گا اور انسان اس کو اپنی ابدی ضرورت اور اپنی بندگانہ حیثیت بتا کر خاموش کرائے گا۔ نہ جسم اپنا کام کرنے اور اپنی خواہش بتانے سے رکے اور نہ قلب وذہن کو اپنے اس شعور اور روحانی عمل سے فراغت ہو۔ یوں دن کی طویل ساعتیں انسان کے ملکوتی خصائص اس کے بہیمی خصائص پر پوری طرح حاوی رہتے ہیں اور اسی کیفیت میں انسان صبح سے شام کر لیتا ہے ۔۔۔۔
تاآنکہ افطار کا وقت آتا ہے۔ افطار وہ منفرد ’کھانا‘ ہے جو انسان اپنی مرضی سے موخر نہیں کر سکتا۔ گویا اب یہ اس کی ضرورت نہیں! یہ بھی اس کو مالک ہی کا حکم ہے! یہ شخص جو پورا دن صبر اور استقامت اور عفت اور وقار کا نمونہ بنا رہا، افطار کیلئے اس کی رغبت اور عجلت بھی اب دیدنی ہے! پورے دن کے اس طویل تربیتی عمل کے بعد کم از کم اس وقت یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کا کھانا اور پینا محض جسم کے مطالبہ کی تنفیذ نہ ہو بلکہ اس بار یہ حکم اس کو اوپر سے ہی ملے! کیوں!؟
تاکہ واضح ہو کہ مسئلہ دراصل ’حکم‘ کا ہے ۔۔۔۔
تاکہ واضح ہو کہ یہ ایک بھرپور انسان ہے اور کھانا اس نے کسی بے دلی یا بے رغبتی یا دنیا بیزاری کے باعث نہیں چھوڑ رکھا تھا بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اس کی رغبت ’دنیا‘ سے بڑی ہے اور وہ رغبت اب بھی کہیں نہیں گئی ہے ۔۔۔۔
تاکہ واضح ہو کہ یہ کوئی ترکِ دُنیا کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ کسبِ آخرت کا عمل تھا ۔۔۔۔
اور تاکہ اس کو یا کسی اور کو یہ غلط فہمی نہ ہو جائے کہ ’بھوک‘ میں خود اپنے اندر کوئی خوبی ہے ۔۔۔۔
بھوکا رہنا فی نفسہ کوئی بہادری نہیں۔ پیاسا رہنے کی خود اپنے آپ میں کوئی فضیلت نہیں۔ وہ اخلاقی فلسفے جو بھوک اور پیاس کی کچھ فی ذاتہ فضیلت بتاتے ہیں وہ دراصل فضیلت کی کوئی بنیاد بھوک اور پیاس کے سوا اپنے پاس نہیں رکھتے۔ یہ مفلس ادیان ہیں۔ بھوک کو فضیلت بخش دینے والی کوئی چیز ہے تو وہ رب العالمین کی بندگی ہے۔ اور جب فضیلت کی اصل بنیاد یہ بندگی ہے تو پھر یہ جہاں بھی پائی جائے۔ یہ بھوک پر صادق آئے تو بھوک عبادت اور کھانے پینے پر صادق آئے تو کھانا پینا عبادت!
سبحان اللہ! ضرورت آدمی کی اپنی اور حکم خدا کا! تاکہ واضح ہو: مالک اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں بلکہ بندے کی ضرورت کا اس کو بندے سے بڑھ کر پاس ہے ۔۔۔۔ اور جو آج اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں وہ کل اپنے بندے کیلئے اپنے پاس کیا کچھ نہ رکھتا ہوگا جب بندہ محض ایک دن کا روزہ نہیں بلکہ عبادت کی پوری زندگی گزار کر اس کے روبرو ہوگا اور جس کو کہ اس نے نام ہی ’صلے کا دن‘ دیا ہے اور جو کہ ہمیشگی کا دن ہے! یہی وجہ ہے کہ ’روزہ کھلنے‘ اور ’خدا سے ملنے‘ کا ایک ساتھ ذکر ہوتا ہے:
للصائم فرحتان: فرحة عند فطرہ وفرحة عند لقاءربہ
”روزہ دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کی روزہ کھولنے کے وقت اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت“۔
چنانچہ افطار کی محض ’اجازت‘ نہیں بلکہ ’ہدایت‘ ہوتی ہے! تاکہ بندہ اپنی بندگی کو کسی ایک ہی صورت میں محصور نہ سمجھ لے ۔۔۔۔ اور تاکہ بندگی کا ایک خوبصورت مضمون محض اپنے ایک پیرائے کی اوٹ میں نہ چلا جائے ۔۔۔۔ اور تاکہ بندہ اپنے مالک کا صحیح تعارف بھی کر لے جو صرف ’پابندیاں‘ نہیں لگاتا بلکہ فضل بھی کرتا ہے۔ بلکہ اس کی عائد کردہ ’پابندیاں‘ سب کی سب اس کے لامتناہی فضل کا ہی پیش خیمہ ہیں۔۔۔۔ اور تاکہ اس پر ایمان اور بندگی کا ایک اور لطیف معنی بھی واضح ہو اور وہ یہ کہ خدا کو پانا ’عمل‘ کے زور پرنہیں بلکہ خدا کے آگے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے میں ہے اورمطلق اس کے فضل اور رحمت کا سہارا چاہنے میں:
واعلموا اَنہ لن ینجوا اَحدمنکم بعملہ۔ قالوا: یا رسول اللّٰہ ولا اَنت! قال: ولا اَنا الا اَن یتغمدن ¸ اللّٰہ برحمة منہ وفضل
”خوب جان لو! تم میں سے کوئی بھی محض اپنے عمل سے پار نہ لگے گا“ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی۔ سوائے یہ کہ خدا ہی اپنی رحمت اور فضل سے مجھ کو اپنی لپیٹ میں لے لے“۔
پس روزہ عاجزی ہے اور ’بندگی‘ کی ایک منفرد یاد دہانی۔ سحری میں تاخیر اورافطار میں عجلتروزہ کے اندر بندگی کا رنگ بھر دینے اور بندگی کی اس تصویر کو مکمل کردینے میںبے حد اہمیت کی حامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک بات میں بندگی کے بے شمار مضامین پوشیدہ ہیں۔
۔۔۔۔ وخیر الھدی ھدی محمد ﷺ
وشر الامور محدثاتہا ۔۔۔۔
رمضان ایک عبادت، ایک پیغام
عزیز قارئین و قاریات!
امید ہے آپ بخیر وعافیت ہونگے!
اس خیر و عافیت کی قدر پہچاننا یقینا بہت بڑی سعادت ہے۔ لینے والے کو اپنی اوقات اور دینے والے کی فضیلت و برتری کا پاس رہے، اپنی کم مائیگی او ر اسکی مہربانی کا احساس رہے تو بندگی خوب نبھتی ہے۔ بندے اور مالک کا رشتہ اپنی بہترین حالت میں جڑا رہتا ہے۔ بندہ اپنے مالک سے لے کر ہی تو کھاتا ہے۔ اس لینے میں آخر عیب ہی کیا ہے، بشرطیکہ یہ احساس رہے کہ یہ رشتہ لینے اور ہاتھ پھیلانے کا رشتہ ہے۔ یہ مانگ کر لینے کا رشتہ ہے۔ لے کراقرار کرنے کا رشتہ ہے ۔ کھا کر شکر کرنے کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کی اصل قیمت بس یہی تو ہے کہ اسے یاد رکھا جائے اور قلب وذہن سے ایک پل بھی محو نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس کے محو ہو جانے کا مطلب پھر یہی تو ہوگا کہ یہ سب نعمتیں ، یہ صحت و شادمانی، یہ تندرستی ، یہ زندگی ، یہ جوانی ، یہ راحت اور تن آسانی، یہ بیوی بچوں کی محبت اور چاہت، یہ مسرت کے لمحات میں دوستوں کے قہقہے اور عزیزوں کی چہک ، یہ خوشیاں یہ سب نعمتیں یہاں آپ سے آپ ہیں!! یہ کسی مہربان کی دین نہیں! یہ سب کچھ روزانہ ایسے ہی یہا ں گلیوں ، بازاروں میں بے تحاشا پڑا ہوتا ہے! یہ خود بخود کہیں سے آتا ہے اور پھر کبھی کبھار خو د بخود ہی کہیں کو سدھار جاتا ہے!!
شہر کے ایک نادان بچے کی طرح جس نے کھیت اور باغات کبھی نہ دیکھے ہوں، کسانوں اور باغبانوں کا پسینہ کبھی بہتا نہ دیکھا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ سیب ریڑھیوں کولگتے ہیں اور آم دکانوں میں اگتے ہیں۔ بندگی کا یہ رشتہ ،خدا کی ممنونیت اور احسان مندی کا یہ احساس جس لمحہ دل سے محو ہوتا ہے تو پوری زندگی ہمارے لیے ویسے ہی بے معنی اور لغو ہوکر رہ جاتی ہے۔ سب خوشیاں اور راحتیں ویسی ہی بے مقصد اور بے قیمت ہوجاتی ہیں۔ یہ خوبصورت دنیا پھر کسی کاریگر کی صناعی معلوم نہیں ہوتی، پھر سورج کے روزانہ اپنے وقت پر نکل آنے پر ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں ہوتا۔پھر چاند کے گھٹتے بڑھتے اجالے میں کوئی عبرت اور کوئی سبق نہیں ہوتا۔ یہاں کے خوش نما پھل، پر لطف ذائقے ، یہ سب رعنائیاں اور لطافتیں ہم کو ریڑھی کا کمال نظر آتا ہے!!
مالک کی پہچان سے محروم ہوکر آدمی واقعی اتنا نیچ ہوجاتا ہے۔ جب یہ کسی کی دین نہیں تو پھر یہ لوٹ ہے!! دوستو لوٹ مچی ہو تو پھر اتنی کسی کو فرصت کہاں کہ ریڑھی سے آگے کی سوچے! کوئی رازق کو پہچانے! خالق کا پوچھے ! مالک کا پتہ کرے! منعم کا احسان مند ہو! جس کا مال کوئی لوٹ نہیں محض اس کی دین ہے! اس کا فضل اور احسان ہے! اس کو کوئی اٹھائے تو اس سے پوچھ کر، کھائے تو اس کا نام پہلے لے کر، پھر کھالے تو دل اور زبان سے اسکی مہربانی تسلیم کرے، اس کی کاریگری کی داد دے اوراس کی عظمت کے گیت گائے! پھر اپنی ذات پر اپنا یا کسی اور کا نہیں سب سے بڑھ کراسی کاحق تسلیم کرے اور نمک حلالی کا یہ حق بھی جانے کہ مالک کے سوا دنیا میں کسی اور کی بڑائی اس سے برداشت نہ ہوگی!! اس کے جیتے جی زمین میں اب کسی اور کی خدائی اور فرمانروائی نہ چل پائے گی!اتنا سوچنے کی کسی کو یہاں فرصت کہاں!!!
صاحبو! مالک کی بجائے اناج کی بندگی، رازق سے بے اعتنائی پر رزق کی طمع ، نعمت کا پاس اور منعم کی بے وقعتی۔۔۔۔ یہ دنیا میں ہمیشہ پست ہمتوں اور کم ظرفوں کاشیوہ رہاہے۔ یہاں گھٹیا انسانوں کا یہ پرانا مذہب چلا آرہاہے۔ روزہ جو اصل معبود کےلئے اختیار ی بھوک رکھ کر ہوتا ہے ، مالک کی خاطر پیاس سہہ کر رکھاجاتاہے، دراصل اسی کم ظرفی کے مذہب کا انکار ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟اس بات کا اعلان کہ دنیا میں خدائی روٹی کی نہیں، روٹی دینے والے اور پیدا کرنے والے کی ہے۔ جو کبھی نہ بھی دے تب بھی خدائی اسی کی شان ہے۔ ہر حال میں اپنا اس سے ایک ہی رشتہ ہے۔ یہ بندگی اور سپاس کا رشتہ ہے۔ یہ منعم شناسی ہی دراصل خود شناسی ہے۔ بھائیو اس رشتے کو جانے بغیر منعم کو پہچانے بغیر کھاتے چلے جانا ویسے کہاں کی انسانیت ہے!! اعلی ظرفی تو یہ ہے کہ کھانے سے زیادہ انسان کو کھلانے والے کی قدر ہو اور کمینگی یہ ہے کہ آدمی کو بس صرف کھانے سے غرض ہو!
پیٹ بھرے تو اس کو روٹی کا کمال جاننا کس قدر گھٹیا پن ہے! اپنا سارا مبلغ علم روٹی پکانے اور اگانے کا فن سیکھنے تک محدود کرلینا روٹی کے مالک سے بے اعتنائی تو ہے ہی، مگر بھائیو! یہ انسان کی اپنی بھی توہین ہے۔ ایسی کم ظرفی کی زندگی جوسب نعمتوں کی قدرکھو دے!! ایسی بد بختی ہر اس انسان کے حصے میں آتی ہے جو دنیا میں اللہ کے تعارف سے محروم رہے۔ جو بندگی کے پر لطف معنوں سے آشنا نہ ہو پائے۔ جسے محمد ﷺکی لائی ہوئی روشنی میں دنیا کی حقیقت دیکھ لینا نصیب نہ ہو۔ لوگ پہلے بھی یقینا ہنستے بستے اور کھاتے پیتے رہے ہونگے مگر بندگی کا مطلب سمجھا کر انسانوں کی طرح کھانا اور بندوں کی طرح نعمت کا حظ اٹھانا ان کو محمد ﷺ ہی نے آکر سکھایا ہے۔ یہ بندگی کا احساس، یا یوں کہہ لیں کہ محمد ﷺکی لائی ہوئی ہدایت ، ایک لمحہ کےلئے بھی آپ کی نظر سے اوجھل ہوئی تو سمجھئے یہ ہنستی بستی دنیا بس اندھیر ہوگئی ۔ انسان کے کھانے اور چارے کا فرق بس اسی ہدایت کے دم قدم سے تو ہے!! دنیا کے طبیب اور ڈاکٹر تو آپ کو کھانے اور چار ے کا فرق صرف غذائیت کے اعتبارسے ہی بتا سکیں گے۔ وہ تو آپ کو کیلوریوں اور ویٹامینوں کی گنتی کرنا ہی سکھا سکیں گے، مگر انسانوں کی طرح کھانا، کسی سوچے سمجھے مقصد کےلئے کھانا بلکہ کسی اعلی مقصد کےلئے کبھی نہ بھی کھان۔۔۔۔ پھر کھانے اور نہ کھانے، ہر دوصورت میں بندگی کا اقرار اور اعتراف کرنا، بلکہ نہ کھانے کی صورت میں شکم سیروں سے کہیں بڑھ کر اس کی حمد وتسبیح کرنا، بھوکا اور پیاسا رہ کر اپنی بندگی اوراس کی کبریائی کا اور بھی شدت سے اعتراف کرنا کوئی صرف محمد ﷺ سے ہی سیکھ سکتا ہے، انسان اور حیوان کا یہ فرق آپ کو سورہ محمد ہی سے معلوم ہوسکتا ہے۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ (سورہ محمد:12)
خالق سے کفر کرنے والے بس کھاتے ہیں، چند روزہ زندگی کی موج کرنے میں لگے ہیں، یوں کھاتے ہیں جیسے جانور ،اور آگ ان کا گھر بننے کےلئے ان کے(انتظار میں )ہے
بھائیواور بہنو! سچ تو یہ ہے کہ محمد ﷺ مبعوث نہ ہوئے ہوتے تو ہمیں اللہ کی تو کیا اپنی پہچان بھی نہ ہو پاتی۔ ہم بھی چوپایوں کی طرح رہتے ،کھانے کےلئے جیتے، روٹی کےلئے مرتے اور حیوانوں کی طرح دفن ہوتے۔ اللہ کا درودہو محمد ﷺ پر جوہمیں زندگی کی اعلی قدریں سکھا گئے ۔ جو ہمیں اعلٰی ظرفی کا مطلب بتا گئے۔ جوہمیں جینے کا مقصد سمجھا گئے ۔بلکہ یو ں کہیئے جو ہمیں انسان بنا گئے ۔سورہ بینہ پڑھ لیجئے محمد ﷺ قرآن کا صحیفہ لے کرنہ آئے ہوتے تو دنیا مان کر دینے والی نہیں تھی۔ انسان بن جانے پر تیار نہ تھی۔ پر یہ اللہ کی رحمت تھی کہ اس نے پاکیزہ صحیفے دے کر اپنا آخری رسول مبعوث فرمایا۔ ان صحیفوں میں روشنی بھر دی اورر سول کے ہاتھ یہ مشعل تھمادی جس سے زمین روشن ہوئی اور انسانیت کی کایا پلٹ گئی! جس رات یہ صحیفے نازل ہوئے ، جس ماہ میں انسانوں کو یہ روشنی اور ہدایت ملی اس رات کواور اس ماہ کو یادگار ہونا ہی چاہیے تھا! سو یہ ہدایت ملنے کاجشن ہے جو ہدایت پا کر ہی منایا جاسکتا ہے۔ یہ آدمی کے انسان بن جانے کی تقریب ہے جس میں ہم اپنی انسانیت نکھار کر اور بندگی کو جلا دے کر شریک ہونگے اور عبادت کا خاص سلیقہ اختیار کریں گے ۔ بھائیو!! انسانیت میسر آجانے کا یہ شکر انہ کوئی زیادہ تونہیں! ہدایت کا یہ مول ہی کیا ہے!؟ مگر اللہ زیادہ طلب کرتا ہی کب ہے!
يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرہ 185)
اللہ کو تمہارے ساتھ نرمی ہی مطلوب ہے سختی نہیں۔(بندگی کی یہ ادائیں تم کو سکھا دیں گئیں تاکہ تم خوشی خوشی) روزوں کی تعداد پوری کرلو اور اللہ نے تمہیں بندگی کی جو راہ دکھائی اس پر تم اللہ کی کبریائی کااظہار اور اعتراف کرو اور شکر انہ ادا کرو
٭٭٭٭٭٭٭
قارئین!! رمضان ہدایت کا مہینہ ہے اور قرآن ہدایت کی کتاب ، دن کے روزے اور رات کے قیام میں بہت گہر ا تعلق ہے۔ کھانا اور سو لینا دنیا کا بےکارمشغلہ ہے۔ یہ دنیا اگر کھانااور سونا کبھی چھوڑ بھی دیتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی اعلی مقصد نہیں ہوتا۔ یہاں کھانے کی قربانی تقریبا کھانے کےلئے ہی ہوتی ہے جو کہ حیوانیت کا بدتر درجہ ہے۔ ہدایت دراصل یہ ہے کہ آدمی جینے کی غرض جانے اور اعلی زندگی کا راز پائے۔” تقویٰ“ اس اعلی اور ارفع زندگی کا ہی دوسرا نام ہے۔ یو ں سمجھو کہ روزے اور قیام کی ایک ماہ کی محنت بس اس مقصد کے لئے ہے۔ اس عمل سے اگر ہدایت کا یہ احساس برآمد نہ ہوا ، بلند مقصد کےلئے جینے اور مرنے کاحوصلہ پیدا نہ ہوا، اس ایک ماہ میں اگر بندگی کاعہد پختہ نہ ہوا، اپنے روزوں کی شکل میں اللہ کو ہم اگر اپنا آپ پیش نہ کرسکے تو بھائیو! اللہ کو غلے اوراناج کی کمی تو درپیش نہیں! اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ عبادت جو ہے ہی ایک مقصد کا نام، وہ ہمارے ہاتھوں بے مقصد ہو کررہ جائے ! تب اسے عبادت کہا ہی نہیں جاسکتا ۔ اسی لیے اما م ابن تیمیہؒ ایسے عمل کےلئے عادت کا لفظ بہتر قرار دیتے ہیں! عبادت تو وہ ہے جو آپ کو بندگی کے احساس کے ساتھ اللہ کے سامنے بے حس وحرکت کھڑا کردے اور اس(عبادت) کے باربار کرنے پر بندگی کے اصل رشتے کی خود بخود تجدید ہوتی رہے بندگی کے اس رشتے کی تجدید، جوکہ اصل ایمان ہے ۔
یہ ”بندگی کااصل رشتہ“ اور ”ایمان کی اصل“ کیا ہے جس کی تجدید آدمی کے روزے سے مطلوب ہے؟ یہ لاالہ الا اللہ کا فہم اور ادراک ہے۔ اس فہم و ادراک کے ساتھ پھر لا الہ الااللہ کااقرار واعلان ہے۔ یہ بندگی کا اصل رشتہ توحید کی شہادت ہے۔ یہ اللہ کی بڑائی کااعتراف ہے اور اس کے سوا ہرایک کی خدائی کا انکار۔ صاحبو! اعمال میں جان بس اسی توحید کے دم سے آتی ہے۔ روزہ ہو یا نماز، صدقہ ہو یا قیام، ذکر ہو یا جہاد جو بھی عمل ہو بس اسی توحید کی شہادت ہے۔ نیکی کا ہر عمل اس لاالہ الااللہ کا عملی اظہار ہو تو ثمر بار ہوتا ہے،دنیا میں بھی اس کا نتیجہ تبھی نکلتا ہے اور آخر ت میں بھی۔ کامیاب ہے وہ شخص جس کا روزہ اورقیام، جس کی نماز اورقربانی ، جس کا مرنااور جینا اس لاالہ الااللہ کاعملی اور شعوری اعلان ہو۔حقیقت تو یہ ہے کہ لا الہ الااللہ ہدایت کاوہ سرا ہے جسے پانے کے بعد ہی انسان کسی عمل میں ”عبادت“ اور” ہدایت“ کا مزا پاتا ہے بلکہ یو ں کہئے پھر ”عبادت“ کے سب افعال اس لاالہ الاا للہ کا مزہ دینے لگتے ہیں ۔ سورۂ محمد ہمیں بار بار اسی حقیقت پر لا کھڑ ا کرتی ہے۔
وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْواهُمْ ۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاء أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ ۔فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ (محمد: 19-17)
وہ جو ہدایت پا جاتے ہیں اللہ انہیں پھر اور سے اور بھی ہدایت سے نوازتا ہے اور ان کو بچ نکلنے (تقویٰ) کا سلیقہ عطا فرماتا ہے۔ اب کیا یہ لوگ بس قیامت کے ہی منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے؟ اس کی علامات تو رونما ہو چکیں! جب وہ خود آجائے گی تو نصیحت پھر وہ کہاں پائیں گے؟
قارئین! آپ نے غور فرمایا! یعنی آدمی اصل ہدایت پالے تو پھر زندگی بھر اسے اور سے اور ہدایت ملتی رہتی ہے اور اسی ہدایت کے بقدر اسے تقوی نصیب ہوتا رہتا ہے۔ اصل ہدایت اور دین کااصل فہم ملا ہو تو نماز،روزہ، زکوت، حج غرض ہر عمل میں اس کےلئے اور سے اورہدایت اور تقوی کا پھر سامان ہوتا ہے۔ بھائیو! یہ ”پہلی ہدایت“ یا ”اصل ہدایت“ کیا ہے جوپھر اور سے اور ہدایت کاسبب بنتی ہے؟ جو ہرعبادت ، ہر عمل میں ہدایت کا لطف اور تقوی کی تاثیر پیدا کرتی ہے؟ یہ اصل ہدایت یہ ہے کہ آدمی اپنی اوقات اورخالق کا مرتبہ پہچان لے ،اس کی روشنی میں آدمی اپنی زندگی کا ایک واضح رخ متعین کرلے اور دنیا کے حقائق کو قرآن کی نظر سے دیکھنا سیکھ لے۔ آیت کے آخری حصے نے خود ہی یہ بات کھول دی کہ یہ اصل اور پہلی ہدایت اور علم کایہ سرچشمہ لاالہ الااللہ کی سمجھ ہے۔ سو بھائیو اور بہنو! صیام اور قیام کالطف اٹھانا ہو، رمضان اور قرآن کے مقصد کو پانا ہو۔۔۔۔ تو کچھ محنت اس لاالہ الااللہ کا مطلب سیکھنے اور دہرانے پرضرور کیجئے گا!! لا الہ الااللہ کی مراد پا لینے کی دعائیں اس پرمستزاد اپنے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی!
٭٭٭٭٭ ٭٭
رسول اللہ ﷺ کی ایک مشہور حدیث(متفق علیہ عن ابی ھریرہ، اس کا ایک حصہ قد سی ہے) کا مفہوم ہے:
اللہ تعالی فرماتا ہے : ابن آدم کاہر عمل اس کے اپنے لئے ہے سوائے روزے کے۔ روزہ تو بس میرے ہی لیے ہے اور اس کااجر بھی میں ہی دونگا۔ یہ روزہ تو ڈھال ہے۔ اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ ہائے دہائی اور شور شرابے سے پرہیز کرے۔ کوئی اس سے لڑائی دنگا کرنے پہ آئے بھی تو وہ اسے کہہ دے بھائی میں روزے سے ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے روزے دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی مہک میں اچھی جانی جاتی ہے۔ روزے دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور ایک اسکی وہ خوشی جب وہ روزے لےکر اپنے رب کے پاس پہنچے گا اور اس سے ملاقات کریگا۔۔۔ الصوم لی و انا اجزی بہ ”روزہ تو بس میرے لئے ہے اور اسکا اجر بھی بس میں ہی دونگا“ کس قدرپیار کے الفاظ ہیں! دنیا میں کتنے بھوکے پھرتے ہیں! کوئی کسی سے اتنی اپنائیت کب کرتا ہے! کسی سے اسطرح محبت کب جتاتا ہے پھر جہانوں کے مالک کو تو کسی کی پڑی ہی کیا ہے! مگر وہ شکور اورقدر دان ہے، شاکر اور علیم ہے، ایک ایک پل کی خبر رکھتا ہے اور بندگی کی ایک ایک اد ا کو پذیرائی بخشتا ہے! لوگوں نے اس حدیث کے بہت سے مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اپنی جگہ ضرور صحیح ہونگے۔ پر یہ تو ایک ادا کے پسند آجانے کا ذکر ہے۔ مسلم کی ایک حدیث کے الفاظ ہیں: یدع شھوتہ و طعامہ من اجلی ”وہ میری خاطر اپنی خواہش اور کھانے سے دست کش رہتا ہے“ من اجلی ”میری خاطر!“ اس کا سارا لطف تو بس اس لفظ میں ہے ”میری خاطر“ اورجب ایسا ہے تو بھائیو پھر یہ چند گھنٹے کا عمل واقعتا بس اسی کی خاطر ہونا چاہیے۔پھر اسکو نری عادت اور سالانہ معمول نہیں واقعی عبادت ہونا چاہیے۔ اس کی ساری قیمت تو ہے ہی اس میں کہ یہ اُس کی خاطر ہو یعنی عبادت ہو ورنہ سردیوں کے روزوں میں تو تکلیف ہی کیا ہے! اس کا سارا ثواب ا س پر مستزاد ! یہ اجرو ثواب بھی ہمارے عمل کے حساب سے نہیں اس کی خوشی کے حساب سے ہوگا! اس کی خوشی کا حساب تو ہمارے کرنے کانہیں ۔یہ تو وہی جانے کہ وہ خوش ہو تو پھر کیا کچھ دیتا ہے! ہم تو بس یہ جانیں کہ اسکی محبت میں تھوڑی سے بھوک اور پیاس سہنے نے اتنا بڑا کام کردکھایا کہ اس نے اسے اپنی خاطر جانا۔ بندگی کایہ معمولی سا عمل اس نے اپنی ذات کے ساتھ خاص کرلیا۔ اپنے لئے یہی اعزاز کیا کم ہے کہ وہ شان بے نیاز ی کا مالک ایک ناچیز مخلوق کی چند گھڑیوں کی محنت کو، اس معمولی ہدیہ عقیدت کو، اپنی خاطر کہہ کر قبول کرے اور پھر سنبھال کرپاس رکھ لے!
روزے دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں ایک اس کی وہ خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور ایک اسکی وہ خوشی جب وہ روزہ لے کر اپنے رب کے پاس پہنچے گا اور اس سے ملاقات کرے گا۔ کتنا گہرا تعلق ہے اور کتنی خوبصورت مماثلت ہے ان دو خوشیوں میں! دنیا میں کسی کی چاہت اور طلب کوبھوک و پیاس سے ہی تو تشبیہ دی جاتی ہے! یہ روزہ دار اپنے مالک کےلئے اپنی خوشی سے بھوکا رہتا ہے ۔ اپنی مرضی سے پیاس سہتا ہے۔ کس نے اِسے روکا ہے کہ پانی پی کر اپنی پیاس نہ بجھائے؟ مگر اِسکی پیاس تو اصل میں پانی کی نہیں۔ اِس کو بھوک کھانے کی نہیں۔ اِس وفادار اور اعلی ظرف انسان کو بھوک تواپنے مالک کی خوشی کی ہے۔ پیاس تو اُس سے ملنے کی ہے۔ سارا دن یہ اِس پیاس کو اُس پیاس کے اظہار میں دل سے لگائے رکھتا ہے۔ اِس کو تشنگی تو خالق کو پانے کی ہے۔ اِس کوچاہت تو رزق سے بڑھ کررازق کی ہے۔ پیاسا تو یہ اُس کاہے۔ ایسی پیاس تو بس پھر اُسی کاجام بجھا سکتا ہے!
وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا (سورۂ دھر: 21)
”اور اس روز ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا“
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (سورہ القیامۃ: 23۔22)
”کچھ چہرے تو اس روز کیا ہی تروتازہ ہونگے یہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے“
اِس کی تو نگاہ پیاسی ہے کہ کسی دن یہ اُسے دیکھ لے! اِس کے کان پیاسے ہیں کہ اُسے سنے اور وہ اِس سے کہے: میں تم سے خوش ہوا میرا تم سے ناراض ہونے کا امکان ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم۔ اب میں تم سے بس خوش ہی رہونگا! اِس کی روح پیاسی ہے کہ یہ اُس کی قربت میں جاکر رہے اور اُس کے پاس جاکربسے۔
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ (القمر: 55-54)
”نافرمانی سے بچ بچ کر رہنے والے تو یقینا پھر باغوں اورنہروں میں رہنے کے لائق ہیں، سچی عزت کی جگہ بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب ”
سو یہ تشنگی تو اظہار ہے کسی اندرکی تشنگی کا۔ اس اصل تشنگی کا تو بس کہنا ہی کیا! یہ تو رشک خلائق ہے! یہ تشنگی معبود کی چاہت ہے! جب یہ پیاس دل کی پیاس ہے تو پھر کوئی اور اس سے واقف کیونکرہوسکتا ہے ! لوگ تو بھوک سے اترا ہوا چہرہ اور پیاس سے سوکھے ہوئے ہونٹ ہی دیکھ سکتے ہیں مگر یہ اندر کی پیاس کسے نظر آسکتی ہے! اسے تو وہی دیکھ سکتا ہے جس کےلئے یہ ہے! اسے تو وہی جانے جس کی یہ چیز ہے! اور دیکھو وہ کیا خوب پہچانتا ہے۔الصوم لی وانا اجزی بہ یہ روزہ تو بس میرے ہی لئے ہے اور اس کااجر بھی اب میں ہی دونگا!!
وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (النساء 147)
”اللہ بڑا قدر دان ہے ایک ایک کے حال سے واقف ہے “
یہ قدر افزائی اور ذرہ نوازی ہی تو ہے کہ اس کے منہ کی ناخوشگوار بو اُسے مشک کی مہک سے بھی اچھی لگے! دوستو! اس منہ سے کی جانے والی دعائیں پھر اس کوکیونکر پسند نہ ہونگی! ایسے منہ سے جب اس کا نام نکلے گا ، ایسے منہ سے جب اس کاذکر ہوگا ، اسکی پاکیزگی کا ورد ہوگا اور اسکی عظمت کے تذکرے ہونگے تو اسے پسند کیوں نہ آئیں گے! صاحبو، بس یہی موقع ہے ۔ کون جانے پھر یہ آئے یا نہ آئے ۔ بس یہ لمحے نہ جانے پائیں! سوکھے ہونٹوں پر اس کا نام، خشک ہوچکی زبان پر اسکا کلام! مٹی سے بنی مخلوق کی یہ قسمت!!!
بھائیو اور بہنو! دیکھنا جب دعائیں سنی جاتی ہوں تو خوش بختی کاسنہری موقع ہاتھ سے ہر گز جانے نہ پائے۔ یہ قسمت سنور جانے کاموقعہ کہیں افطاریوں کے شور اور باروچی خانوں کی مصروفیت کی نذر نہ ہوجائے ،اللہ اپنے بندے کی پکار ہرجگہ سنتا ہے!
بھائیو اور بہنو! یہ معبود جس آدمی کا مقصود ٹھہرا اس کو کسی چیز کی پھر کیا فکر ! سو انسان کو فکرہو توبس اسی کی اور چاہت ہوتو بس اسی کی! اس کے مل جانے میں صاحبو سب کچھ ملتا ہے اوراگر وہ نہ ملے تو پھر سب کچھ فضول ہے۔ اس کونہ پایا تو سمجھو کچھ بھی نہ پایا۔ اس مختصر سی زندگی میں صرف بد بختی اکٹھی کی۔ کچھ کھو کر بھی اگرا س کو پالیا تو سمجھو کچھ بھی نہیں کھویا اور اگر سب کچھ پایا مگر اس کو کھو دیا تو سب کچھ ہی کھو دیا۔ حضرات یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کا وقت بس آیا ہی چاہتا ہے۔ یقین رکھئے پردہ اٹھنے ہی والاہے۔ جس دن روزہ دار اپنا روزہ لے کر اپنے مالک کے پاس پہنچے گا اور اس سے ملاقات کا شرف حاصل کرے گا !!!
اے اللہ ہمارے روزے قبول کرلے!!!
دوستو! انسان کا مقصود لامحدود ہے مگر اس کی ہمت بہت ہی محدود، جو جلدہی جواب دے جاتی ہے ۔سو قبل اس کے کہ اس کی ہمت جواب دے جائے اسے امتحان سے نکال لیا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی امتحان دینا بھی چاہے تو قبول نہیں(اس کی اجازت صرف اللہ کے رسول کو تھی آپ سے بعض صحابہ نے غروب آفتاب کے بعد بھی روزہ جاری رکھنے کی اجازت چاہی تو آپ نے اجازت نہ دی)۔۔۔۔ روزہ دار کو بتا دیا جاتا ہے کہ سورج جب مغربی افق پر روپوش ہوجانے کا حکم پائے تو دنیا میں یہ اس کی بازیابی کا وقت ہے۔ اب وہ ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کرے اور اپنے مالک کا رزق کھائے۔ بھوک اور فاقے سے جو بات وہ اپنے مالک کو بتاناچاہتا تھا اس کے مالک نے بس وہ بات سن لی۔اور اسے وہ بہت پسند آئی۔ اب یہ خاطر جمع رکھے اور مالک کی اجازت سے بلکہ اس کی فرمائش پر کچھ نہ کچھ ضرور کھائے! ویسے تو اپنی مرضی سے انسان کیا کچھ نہیں کھاتا۔ پر یہ انسان ہے جسے مالک نے خو د کہا ہے کہ کچھ اٹھا کرکھالو، اپنی خوشی سے کہا ہے، زور دے کرکہا ہے، بھئی نہ کھانے کی اجازت ہی نہیں! ہاں اب اس کھانے کی تو بات ہی اورہے! افطار کی یہ شان نرالی ہے! کھانا بھی اور ثواب بھی! دنیا بھی اور آخرت بھی!! یہ افطار کی خوشی دراصل روٹی پر ٹوٹ پڑنے کی خوشی نہیں۔ یہ تو منزل پر جا لگنے کی خوشی ہے۔ یہ مقصود کوپالینے کی خوشی ہے! یہ پار لگنے کی امید ہے! یہ خوشی کی آس لگ جانے کی خوشی ہے!!!
ذہب الظماءوابتلت العروق وثبت الاجر ان شا ءاللہ ”پیاس تھی سو گئی، رگوں میں جان آئی اور اللہ نے چاہا تو اجر پکا“!! زہے نصیب رزق بھی ملا اور معبود بھی!!! فسبحان اللہ رب العالمین!!
قارئین وقاریات!
آپ جب بندگی کی راہ پالیتے ہیں تو آپ کے قلب و ذہن میں اس سے ایک کیفیت جنم لیتی ہے اور آپ کے رویہ اور سلوک میں ایک تبدیلی رو پذیر ہوتی ہے۔ ایک اعلی اور پاکیزہ زندگی کاایک تصور ابھرتا ہے۔ اس تبدیلی اور اس کیفیت کا نام تقویٰ ہے۔ اس اعلٰی اور پاکیزہ زندگی کا نام پرہیز گاری ہے۔ تقوی بندگی بھی ہے اور بندگی کا ثمر بھی۔
اسلام میں عبادت کے بنیادی طور پر پانچ ارکان ہیں۔ یہ گویا پانچ لفظوں یاپانچ جملوں میں اسلام کاتعارف کرادینا ہے۔ اس تعارف کا جمال اجمال میں ہے۔ پھر یہ تو عملی اسلام کا ایک جامع تعارف بھی ہے۔ مگر ہم نے چونکہ صدیوں سے دین کواجزا میں تقسیم کررکھا ہے، دین کے حصے بخرے کرنے کا عمل اب بھی شدت سے جاری ہے، ہر گر وہ د ین کاایک ایک یا دو دو یا چارچار جز لے کر اپنی اپنی راہ چل رہا ہے اس لئے ارکان اسلام یا عبادت کے افعال کے ضمن میں جوچیز ہم بیچ سے عموماً نظرانداز کرجاتے ہیں وہ یہ کہ عبادت ایک انتہائی شعوری کیفیت کانام ہے جولازماً تقوی پرجاکر ختم ہوجاتی ہے۔ عبادت اگر عبادت ہے توضرورا س کی ڈالیاں نیکی کے پھلوں سے لدجانی چاہئیں۔
عبادت سے نیکی کے یہ سب کام برآمد کرانا۔۔۔۔ تربیت کایہی نبوی منہج ہے ان دونوں کی یہ ترتیب بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ہے۔ ارکان اسلام پر اصل محنت کرائے بغیر امت کونیکی کی راہوں پردوڑانے کاکام بے ثمر ہے۔ اس سے اسلام کی اصلی روح کی عکاسی نہ ہوسکے گی۔ مسلمان سے قرآنی شخصیت برآمد نہ ہوسکے گی۔ اس ترتیب اور تلازم کوسمجھ لینا بس دین کی سمجھ پانا ہے۔ مختصراً یہ کہ عبادت بذات خود ایک بے انتہا پرکیف عمل اور دل گیر حقیقت ہے اوراصل میں تو یہ بذات خود ہی مقصود اور مطلوب ہے مگراس سے انسان کے انفرادی اور معاشرتی کردار میں آپ سے آپ ایک تبدیلی کاآجانا بھی لازمی ہے۔
شادی کالغوی مطلب اگرچہ گھر بار اور اولاد نہیں مگر یہ سب کچھ اس کے ساتھ خود بخود آتا ہے۔ زوجین میں سے کوئی بانجھ نہ ہو تو اولاد لازماً شادی کاایک مقصد ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ کہ شادی بذات خود بھی ایک غیر معمولی لطف اور کشش رکھتی ہے اور ایسا بھی نہیں کہ اولاد کے سوا انسان شادی سے کوئی مقصد یا غرض نہ رکھتا ہو،یقینا مرد اور عورت کا ایک دوسرے سے راحت اور سکون پانا بجائے خود بھی مطلوب ہے۔ بس تقریبا یہی مثال ارکان اسلام کے ساتھ نیکی کے مظاہر کی ہے۔ اسلام جس عبادت کاحکم دیتا ہے وہ رہبانیت کی طرح بانجھ نہیں جوانسان کی ذات میں اور اس کے گرد پھیلے معاشرے میں کوئی تبدیلی نہ لے آئے۔ عبادت تو ہے ہی شعور اور کردار میں تبدیلی لانے کے لئے۔ گو اس عبادت کا اپنالطف اور اس کا بجائے خود مطلوب ہونا اپنی جگہ برقرار ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ 21)
لوگو بندگی اختیار کرلو اپنے رب کی جو تمہارا بھی خالق ہے اورتم سے پہلوں کا بھی خالق ہے۔ کیا بعید کہ تمہیں تقویٰ نصیب ہوجائے۔
چنانچہ ہدایت سے انسان میں بندگی آتی ہے اور بندگی سے تقویٰ ۔بھائیو رمضان کا بھی بس یہی پیغام سمجھو!
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرہ182)
ایما ن والو ! تم پر روزہ فرض کیا جاتا ہے جس طرح کہ تم سے پہلے انبیاءکے پیروؤں پربھی فرض کیا گیا تھا تمہارے پرہیز گار بننے کی یہی صورت ہے۔
سورہ البقرہ میں جہاں روزے کے متعلق آیات ہیں اس سے کچھ پہلے ایک لمبی سی آیت بھی آتی ہے جو آیت البر کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں نیکی اور تقویٰ کی بہت خوبصورت وضاحت ہے ۔ اللہ کومنظور ہو ا تو کبھی اس پربھی ہم بات کریں گے۔ بہرحال یہ آیت بار بار پڑھنے اور سمجھنے کی ہے احادیث میں بھی تقوی کی بہت وضاحت آئی ہے ۔تقوی کے ضمن میں آپ کو کچھ چیزوں کے نام گنوا دیئے جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیکی چند چیزوں میں محدود ہے۔ یہ آیت تو(بلکہ اس سلسلے کی احادیث بھی) دراصل ایک ایسے انسان کی تصویر کھینچتی ہیں جو اپنے مالک کو پہچان چکا ہے۔ اپنی اخروی ضرورت سے آگاہ ہوچکا ہے۔ اپنے دنیاوی وجود کامقصد جان چکا ہے۔ مالک کی بندگی کاسلیقہ سیکھ چکا ہے۔ اس سے اس کی ملاقات کا وقت طے ہے ۔ یہ اس کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ بس یہ انہی سوچوں میں مگن ہے اور صبح و شام اسی کی دوڑ دھوپ میں لگا رہتاہے ۔
بھائیو اور بہنو ! تقوی کے اعمال جتنی بھی وضاحت سے بیان کردیئے جائیں پھر بھی یہ تقویٰ کے بس مظاہر ہیں،مظاہر میں حقیقت کا رنگ بھرنا اور ظاہرمیں باطن کا شعور پیدا کرنا پھر بھی باقی ہے اور مو ت تک موقوف نہیں ہوتا۔
گناہوں سے بچنا ،اللہ کے ناراض ہوجانے سے ڈرنا ، جہنم سے خوف کھانا، گھٹیا حرکت سے پرہیز کرنا، برائی سے اجتناب کرنا، بلکہ برائی کو مٹانے کے درپے ہونا، دنیامیں فساد کو ختم کرنا، بے حیائی سے گھن کھانا، شرک سے نفرت کرنا، کفر کی راہ روکنا، طاغوت سے لڑنا، باطل سے دشمنی کرنا، پھر دوسری جانب نیکیوں کی حرص، جنت کی طلب ، اچھائیوں کی تلاش ، حق کی دریافت، علم کا حصول، اعلی ظرفی اور بلند خیالی ، حیا کاپاس، اللہ کی محبت کے راستوں کی تلاش ، اللہ کے دین کا تحفظ اور اشاعت ، اس کی راہ میں جہاد، شہادت کی آرزو، حق کاقیام، ایفائے عہد ،دیانت داری، خدا ترسی ، انسانوں سے بھلائی، مخلوق کی خیر خواہی ،پڑوسی سے احسان، مومنوں سے پیار، صلہ رحمی، بھوکوں کوکھلانا، پیاسوں کو پلانا، یتیموں اور بیواؤں کاسہارا بننا، مظلوم کی داد رسی اور ظالم کا ہاتھ توڑنا ،لڑنے والوں میں صلح کرانا، بیماروں کی خبر گیری ، راہگیروں سے نیکی، مسلمانوں کوسلام کرنا، مسکرا کرملنا، گرمجوشی سے مصافحہ کرنا، امت محمد کےلئے سوچنا اورپریشان ہونا، امت کی خدمت و اصلاح، اس کی بہتری اور بہبود کےلئے دوڑ دھوپ اور اس کو گمراہی سے بچانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ یہ سب نیکی اور تقویٰ کے مظاہر ہیں۔ تقوی ہوگا تو دل میں__جیسا کہ اللہ کے رسول نے فرمایاہے __ کیونکہ یہ بنیادی طور پر قلب و شعور کی ایک کیفیت کا نام ہے، پر اس کا اظہار یونہی عمل اور کردار سے ہوگا،جہاد سے ہوگا اوراللہ کے راستے میں اپنا مال، اپنا وقت اور اپناآپ لٹانے سے ہوگا۔
روزہ اگر عادت نہیں بلکہ عبادت ہے تو اس سے اور نیکیاں ضروری پھوٹنی چاہئیں ۔ برائی ختم ہونی چاہیے۔ انسان کی اپنی ذات میں بھی اور معاشرے میں بھی۔ روزہ اگر روزہ ہے تو اس سے تقویٰ برآمد ہونا چاہیے ورنہ یہ روزہ بانجھ ہے۔ اس روزے کواولاد نہیں ہوتی! کبھی آپ نے غور فرمایا یہاں روزہ دارکتنے ہیں، نمازی بھی اللہ کے فضل سے شمار سے باہر ہیں ۔مگر برائی ہے جو معاشرے میں گھٹنے کی بجائے روز بروزبڑھتی ہی جارہی ہے۔ آئے سال بے حیائی اور کفر کی نمائش میں کچھ اور ہی اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ ریڈیو بند کرتے ہیں وہ اخباروں اور میگزینوں سے نکل آتی ہے۔ ویڈیو سے جان چھڑاتے ہیں تو وہ آپ کے بچے کے بستے سے نکل آتی ہے۔آپ اپنی نگاہ نیچی کرلیتے ہیں مگر وہ برابر گلیوں اور بازاروں ، کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں ہر جگہ ناچتی ہے۔ دندناتی ہے ۔ بھائیو نظر نیچی رکھنا یقینا تقویٰ ہے مگر تقویٰ یہ بھی ہے کہ آگے بڑھ کر اس برائی اور بے حیائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
کبھی آپ نے سوچا یہ برائی اور خباثت کوہوا دینے اور تحفظ فراہم کرنے کاکام اس ملک میں کون کرتا ہے!؟ گھر سے ٹی وی نکال دینا ، ٹھیک ہے مگر اکثر دیندار توگویا یہ سمجھتے ہیں کہ ناچنے اور گانے والیاں شاید ٹی وی نام کے ایک ڈبے میں بندہوتی ہیں اس لئے اگر اس ڈبے کو توڑ دیا جائے تو اس کے اندر کے سارے شیطان اس کے اندر ہی دم گھٹ کر مرجائیں گے اور خباثت کا قلع قمع ہوجائے گا! بس اسی سے وہ ادائے فرض سے خود کو سبکدوش جانتے ہیں۔ زیادہ ہوا تو دوسروں کو یہی مشورہ دیتے ہیں! اس سوچ کا منطقی نتیجہ شاید یہی ہے کہ دنیا میں اگر ٹی وی نہ رہیں تو ٹی وی اسٹیشن بیچارہ پھر اکیلا کر ہی کیا سکے گا!
حقیقت یہ ہے کہ ایسی پسماندگی اور حقائق سے آنکھیں چرانے کا دور نمازیوں اور روزے داروں پرکبھی نہیں آیا۔ شیاطین تو ٹی وی سیٹ میں نہیں ٹی وی اسٹیشن کے پیچھے کارفرما ہیں۔ یہی تو اصل شیطان ہے۔ اس شیطان کو توڑنے کی بات یہاں کتنے روزے دار کرتے ہیں۔؟اسکی فکر کرتے ہوئے آپ نے کتنے نمازیوں کو دیکھا ہے؟کتنی مسجدوں میں آپ نے معاشرتی فساد کے خلاف تیاری ہوتی دیکھی ہے؟ کیا مساجد اورعیدگاہوں میں بلند ہونے والی تکبیرات اور تسبیحات کا کبھی کسی نے یہ مطلب بھی لیا ہے کہ اب یہاں برائی کی خیر نہیں؟ بھائیو! ہماری نمازوں اور روزوں میں آخر کیوں کوئی پیغام نہیں؟
بھائیو اور بہنو ! ہوسکے تو روزوں کے درمیان کچھ وقت نکا ل کر اس پر بھی ذرا سوچیئے گا!
٭٭٭٭٭ ٭٭
قارئین وقاریات!
بندگی اس تقویٰ کا سبب تب بنتی ہے جب وہ ہدایت کا نتیجہ ہو ۔ دین داری کا آغاز اعمال پر محنت سے نہیں ایمان اور توحید کی حقیقت سمجھنے سے کیجئے! کائنات کے بڑے اور اہم حقائق کو قرآن کی نظر سے دیکھنا سیکھئے ۔ دنیا میں انبیاءکی بعثت کا مقصد سمجھئے۔ ہدایت اور ضلالت کی جنگ کی حقیقت جانئے اور قوموں کی تاریخ اور واقعے سے واقفیت حاصل کیجئے۔ انسان کی اپنی حقیقت اور اسکے عمل کے حدود سے آگہی حاصل کیجئے۔ زمین میں انسان کا کار منصبی جانئے۔ مگر اتنی بڑی بڑی باتیں بھلا آپ کیسے معلوم کریں گے؟ پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ علم اور دانائی کے ان سبھی سوتوں کا اصل منبع اور سرچشمہ تلاش کرلیا جائے؟ بھائیو قران پڑھیے اس میں ہماری ضرورت کی ہر چیز جلی حروف میں اور بڑی آسان کرکے لکھ دی گئی ہے!
قرآن کی سمجھ پانے کےلئے اللہ کے رسول کی سنت اور سیرت سے رجوع کریں۔ ان دونوں کو سمجھنے کےلئے ائمہ تفسیر اور اساتذہ سے استفادہ کیجئے۔ ایسے لٹریچر سے مدد لیجئے جو قرآن کا پیغام سمجھانے کےلئے لکھا گیا ہے۔ مدد جس سے بھی لیجئے کسی طرح کوشش کریئے گا آپ ایمان کو خود قرآن ہی سے برآمد کرسکیں ورنہ بندگی نہ لطف پورا دے گی اور نہ ثمر۔
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ پہلے ہم اللہ کے رسول سے ایمان سیکھتے۔ پھر قرآن سیکھتے۔ تب ہمارا ایمان اور بھی بڑھ جاتا۔ یعنی ایمان اور بندگی کاایسا شعور ملتا کہ اس کا کوئی حد وحساب ہی نہ رہتا۔ بھائیو ایمان کے د و ہی اصل استاد ہیں پہلے رسول اللہ ﷺ پھر قرآن۔ رمضان کے دوران اس مدرسہ میں ضرور پڑھیے گا۔
عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان جبرائیل کے ساتھ قرآن کو تازہ کرتے، اپنی عمر کے آخری سال میں آپ نے یہ عمل دوبار فرمایا۔ راتوں کے لمبے قیام میں بھی ظاہر ہے آپ قرآن ہی پڑھتے ۔ دن کاپڑھنا اس کے علاوہ تھا۔ گویاآپ بس قرآن ہی پڑھتے!
سلف جو ویسے بھی قرآن بہت پڑھتے تھے مگر رمضان میں توان کامعمول ہوتا کہ بس وہ قرآن ہی پڑھتے۔ امام زہریؒ جب رمضان شروع ہوتا تو فرماتے: بس یہ مہینہ تو قرآن پڑھنے کا ہے یا تنگ دستوں کو کھلا کھلا کرخوش کرنے کا۔ امام مالکؒ جب رمضان آجاتاتو حدیث کی تعلیم تک چھوڑ دیتے، فقہ کی مجالس ترک کردیتے، قرآن لے کربیٹھ جاتے اور بس وہی پڑھتے۔ قتادہؒ کا معمول تھاکہ عام دنوں میں وہ سات دنوں اور سات راتوں کے اندر قرآن ختم کرتے مگر رمضان میں وہ ہرتین راتوں کے اندر ختم کرلیتے۔ بھائیو اور بہنو! قرآن پڑھنا بھی ضروری ہے اور سمجھنا بھی۔ اس کے مفہومات کو دہرانا بھی اچھا ہے اوران مفہومات کاباہم مذاکرہ بھی۔ سورۂ محمد میں نفاق اور دل کی بیماریوں کے رہ جانے کہ وجہ قرآن پرتدبر نہ کرنا بتائی گئی ہے۔
أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ۔ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد24۔23)
یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اوران کواندھا اور بہرا بنا دیا ۔کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟
ویسے تو رمضان میں قرآن ہر وقت اور زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ مگر قرآن کو عقیدت کے ساتھ سمجھ اور ترتیل سے پڑھنے کی بہترین حالت نماز ہے۔ اگرقرآن آپکوزبانی یاد نہیں تب بھی آپ کونوافل میں لمبی قرآت کے لطف اور ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ا م المومنین عائشہؓ کے فتویٰ کی رو سے جو انہوں نے اپنے غلام ذکوان کودیا تھا، آپ نفلی نمازیں مصحف سے دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔یہ تاثر بھی درست نہیں کہ قرآن کی لمبی قرات آپ صرف تراویح میں کریں۔ ممنوعہ اوقات کو چھوڑکر(جوکہ فجرسے طلوع آفتاب تک، پھر زوال کی چند گھڑیاں اور پھر عصر تا مغرب کے اوقات ہیں) آ پ دن یا رات میں ہر وقت یہ عبادت کرسکتے ہیں۔ آپ کے پاس قرآن پڑھنے کےلئے جتنا وقت ہے اسی میں کچھ وقت نوافل میں کھڑے ہوکر پڑھ لیجئے! اگر قرآن کا یہ حصہ جوآپ نماز میں پڑھنے جارہے ہیں آپ نے پہلے سمجھ بھی لیا ہے پھر تو کیا ہی بات ہے! کیسٹ وغیرہ کے ذریعے قرآن سنتے رہنا بھی آپ کے روزے کااجر اور وزن بڑھا سکتاہے!
٭٭٭٭٭٭٭
قرآن پڑھنے سے کچھ وقت بچے تو سنت اور سیرت کا مطالعہ کیجئے،یہ ایک طرح سے نبی کی صحبت میں بیٹھنا ہے۔ ریاض الصالحین ایمانی موضوعات پراحادیث کا ایک اچھامجموعہ ہے۔ اردوسیرت میں رحیق المختوم ازصفی الرحمن مبارک پوری اور محسن انسانیت از نعیم صدیقی آسان اور عام فہم ہیں۔ زیادہ علمی اور تاریخی تفاصیل درکار نہ ہوں تویہ دو کتابیں اچھی ہیں۔ کسی صاحب کواعتکاف بیٹھنے کی سعادت حاصل ہو تووہ اورچیزوں کے ساتھ ساتھ یہ کوشش کرے کہ سیرت کی ایک کتاب تو بس ختم کرکے ہی اٹھے۔ سیرت کی کتب ایسی چیز ہیں جو پڑھ رکھی ہونا کافی نہیں۔سیرت بار بار پڑھنے کی چیز ہے۔
حقیقتِ اسلام کے ضمن میں کتاب التوحید از شیخ محمد بن عبدالوہاب، دینیات از سید مودودی ،خطبات از سید مودودی مطالعے کے لائق ہیں۔ اس کے علاوہ پسند فرمائیں تو ایقاظ کے گذشتہ شماروں میں توحید، آخرت اورتربیت سے متعلق موجود مضامین سے بھی استفادہ کریں۔ اس ضمن میں ایک مختصر کتابچہ رسائل توحید مجموعہ از شیخ محمد بن عبدالوہاب بھی ادارہ ایقاظ سے طلب کیا جاسکتا ہے۔ نصیحت اور تذکرہ کے باب میں دوائے شافی از امام ابن قیم(ترجمہ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد)، تلبیس ابلیس از علامہ ابن جوزی اور’ کیا ہم مسلمان ہیں؟‘ از شمس نوید عثمانی ۔ علاوہ ازیں اذکار اور دعائیں بھی اہم موضوع ہے اس کے علاوہ دوائے شافی اور ریاض الصالحین کی کتاب الاذکار اور کتاب الدعوات میں آپ کواچھا خاصا مواد مل سکتا ہے۔ اذکار اوردعاؤں پر مشتمل ایک جیبی کتابچہ حصن المسلم (ترجمہ حافظ عبدالسلام بن محمد) بھی آپ ہر وقت اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
یہ سب کچھ ازراہ مشورہ و تجویز ہے آپ اپنی پسند اور ضرورت کاتعین یقینا ہم سے بہتر کرسکتے ہیں۔ بہرحال اس طرح کی کتب نے آپ اگرپہلے پڑھ رکھی ہیں تب بھی ان کو بار بار پڑھنا نہایت مفید ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
قارئین !
روزہ رکھ کر بھوکے اور نادار مسلمانوں کااحساس ہوجانا بھی روزے کاایک مقصد ہے ۔صدقہ دراصل اسی احساس کانتیجہ ہوتا ہے۔ مسکینوں کو کھلانا اس مہینے کاایک بہترین عمل ہے۔ مساکین میں رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور محلہ داروں کا سب سے بڑھ کرحق ہے۔ پھر ان میں سے جو زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہوں انکااور بھی بڑا حق ہے۔ اگر کوئی نیکی میں کم ہے تب بھی آپ کے صدقہ و انفاق کے پیچھے اسے مسجد میں لے آنے کا مقصد ، کوشش اور دعا ہونی چاہیے۔ کچھ بھی پکائیں اس کاکچھ حصہ غریب پڑوسی یا پڑوسن کونکال کربھیج دیا کریں۔ کسی کو کچھ دیں تو عزت اور احترام سب سے پہلے دیں۔ جو غریب کو کچھ بھی نہ دے سکتا ہو وہ محبت اور پیارتو دے سکتا ہے۔ یہ نیکی بھی چھوٹی تو نہیں! مسلمان کا مسلمان کومسکرا کر ملنا بھی اللہ کے رسول نے کہا ہے کہ صدقہ ہے۔
بڑی بڑ ی افطاریاں عموما پیسے کی نمائش ہوتی ہیں۔دینی مواقع کو سیاسی اہمیت دے دینے کے اس دور میں لوگ افرادی قوت دکھانے کابھی یہی موقع سمجھتے ہیں۔ ایک مالدار روزہ کھلوانے کی نیکی کرنے پر آئے تو بھی مالداروں کونہیں بھولتا، یاد توبس غریب نہیں رہتے۔ کھاتے پیتے آدمی کوافطار پربلانا کبھی بھول بھی جائے تو دس دس بار معذرت ہوتی ہے،اس گناہ کاکفارہ تک دیا جاتا ہے۔جواب میں دوسرے مالدار صاحب بھی ان کے ساتھ خوب نیکی کرتے، ہیں وہ بھی جب دعوت کریں گے تو انہی کو بلائیں گے۔ یوں مالدار لوگ اپنا حساب عموماً برابر کرلیتے ہیں۔ خسار ے میں کوئی بھی نہیں رہتا۔ ویسے کوئی غریب اگر قسمت کا مارا ایسی دعوت پر آبھی جائے تو شاید وہاں سے بھوکااٹھ جانا زیادہ پسند کرے۔ الا ماشا اللہ۔
بھائیو رمضان بھی اگر امیر اور غریب مسلمانوں میں قربت اور اپنائیت پیدا نہ کرسکا تو پھر اس کاکب موقعہ ہے؟ ہمارا مطلب یہ نہیں کہ کھاتے پیتے عزیزوں اور دوستوں کوروزہ افطار کروانے میں کوئی حرج ہے۔ مگرہماری بات کایہ مقصد ضرور ہے کہ اصل نیکی تو بس غریب کاپیٹ بھرنا ہے۔اگر آپ یہ اصل کام کررہے ہوں توپھر کسی کو بھی کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر کیا آپ نے یہاں کسی امیر کوکھانا اٹھاکر کسی غریب کے گھر کا رخ کرتے بھی دیکھا ہے؟ مالداروں کو رمضان میں یتیموں اور بیواؤں کا پتہ پوچھتے اور ان کے گھر تلاش کرتے پایا گیا ہے؟ ایک مالدار کو غریب مسلمان کےساتھ ایک تھالی میں کھاتے ہوئے آپ نے زندگی میں کتنی باردیکھا ہے؟ ہاں البتہ اپنی کلاس کے لوگوں کےساتھ پرتکلف افطاری نوش فرمائی جاتی اکثر ملاحظہ کی ہوگی۔ سنا ہے اب اچھے اچھے ہوٹلوں میں بھی لوگ یہ عبادت کرنے جاتے ہیں!
دوستو! انسان کی موج پسند طبیعت عبادت کو عادت اوررسم بنا لینے پر تیار رہتی ہے۔ نیکی کودیکھتے ہی دیکھتے مشغلے میں تبدیل کرلیتی ہے۔ سنجیدگی میں شغل اور دل لگی کاپہلو جلد ہی نکال لیتی ہے۔ خواہ وہ افطار کامعاملہ ہو یا آخری راتیں جاگنے کا۔ بھائیو اور بہنو! عادت اور عبادت میں شعورواحساس کاایک لطیف فرق ہی تو ہوتا ہے۔ بس اس فر ق کو پورا مہینہ یاد رکھیئے گا۔ عبادت کے مہینے میں بس عبادت ہی ہونی چاہیے۔عبادت نام ہے ایک بڑی ہستی کی محبت اور اس سے خوف رکھنے کا،نہ اس محبت کی کوئی حد ہے اورنہ اس خوف کی۔ بھائیو رمضان بھر بلکہ زندگی بھر ہرعمل کے پیچھے اس جذبے اور اس کیفیت کو ٹٹولتے رہیے گا!
الھم انک عفو تحب العفو فاعف عنا
اﷲ اَکبراﷲ اَکبر، لاالہ الا اﷲ، واللہ اَکبر اﷲ اکبر، وللہ الحمد








































Recent Comments